رسائی کے لنکس

روس: مبینہ انتخابی دھاندلی کی تفتیش کے احکامات جاری


روس: مبینہ انتخابی دھاندلی کی تفتیش کے احکامات جاری

روس: مبینہ انتخابی دھاندلی کی تفتیش کے احکامات جاری

یہ بیان جاری ہونے کےمنٹوں کے اندر اندر مسٹر مدویدیف کو اُن کے فیس بک سائٹ پر 1000سے زائد تبصرے موصول ہو چکے تھے، جن میں سے زیادہ تر میں برہمی کا اظہار ہوتا تھا، جب کہ کچھ احترام سے یکسر عاری تھے

اتوار کے روز روس کے صدردمتری مدویدیف نے گذشتہ ہفتے ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں انتخابی دھاندلی کے الزامات کی چھان بین کے احکامات جاری کردیے ہیں۔

یہ اعلان ماسکو اور دیگر شہروں میں ریلیاں نکلنے کے بعد سامنے آیا ہے، جِن میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ اِن ریلیوں میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ چار دسمبر کو ہونے والے الیکشن کو منسوخ قرار دیا جائے، جِس میں وزیرِ اعظم ولادی میر پیوتن کی حکمراں یونائٹڈ رشیا پارٹی نے فتح حاصل کی۔

فیس بک کے سماجی میڈیا سائٹ پر شائع ہونے والے ایک بیان میں مسٹر مدویدیف نے کہا کہ حالانکہ وہ ریلیوں میں بلند ہونے والے نعروں اور تقاریر سے اتفاق نہیں کرتے، اُنھوں نے احکامات جاری کردیے ہیں کہ انتخابی قوانین پر عمل درآمد کے بارے میں پولیس تھانوں پر پہنچنے والی ساری اطلاعات کا جائزہ لیا جائے۔

یہ بیان جاری ہونے کےمنٹوں کے اندر اندر مسٹر مدویدیف کو اُن کے فیس بک سائٹ پر 1000سے زائد تبصرے موصول ہو چکے تھے، جن میں سے زیادہ تر میں برہمی کا اظہار ہوتا تھا، جب کہ کچھ احترام سے بالکل عاری تھے۔ زیادہ تر میں لکھا تھا: ’ شرم آنی چاہیئے‘ اور’ ہم آپ پر بھروسہ نہیں کرتے‘۔

حالیہ دِٕنوں کے دوران نہ تو صدر اور نا ہی پیوتن عوام کے سامنے آئے ہیں، جب کہ احتجاج سے وابستہ لوگوں نے انتخابی نتائج کی مخالفت کرنے کی ٹھان لی ہے۔ ناقدین نے مسٹر پیوتن کی حکمراں یونائٹڈ رشیا پارٹی پر الزام عائد کیا ہے کہ اُس نے ووٹنگ میں بڑے پیمانے پر دھاندلی سے کام لیا اور غیر قانونی حربے استعمال کیے ہیں۔

ہفتے کو ماسکو، سینٹ پیٹرس برگ اور مشرق بعید کے خبروسک اور ولادی اسٹاک شہروں میں ریلیاں نکلیں، جو 1990کی دہائی کی زیادہ تر پُر امن ریلیوں کے مقابلے میں بڑی ریلیاں تھیں۔ تاہم، گذشتہ ہفتے ماسکو اور سینٹ پیٹرس برگ کے احتجاجی مظاہروں میں بڑے پیمانے پر پولیس موجود تھی اور سینکڑوں مظاہرین کو گرفتار کیا گیا۔

XS
SM
MD
LG