رسائی کے لنکس

روس: بحیرہ کیسپین سے قدرتی گیس کے یورپی یونین معاہدے کی مخالفت


روس: بحیرہ کیسپین سے قدرتی گیس کے یورپی یونین معاہدے کی مخالفت

روس: بحیرہ کیسپین سے قدرتی گیس کے یورپی یونین معاہدے کی مخالفت

روس نے یورپی یونین کے اس فیصلے پر نکتہ چینی کی ہے کہ وہ بحیرہ کیسپین کے علاقے میں موجود قدرتی گیس کے وسیع ذخائر سےمغربی یورپ کو براہ راست گیس کی فراہمی کے لیے سابق سویت ریاستوں آزربائجان اور ترکمانستان کے ساتھ پائپ لائن پراجیکٹ پر براہ راست مذاکرات کرے گی۔

منگل کوجاری ہونے والے ایک بیان میں روس کی وزارت خارجہ کے ترجمان الیگزینڈر لوکاشوچ نے کہا کہ ایسا کوئی معاہدہ کیسپین سے متعلق بین الاقوامی قانون اور خطے کی سیاسی و جغرافیائی صورت حال کے بین الاقوامی تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہے گا۔

ترجمان نے مزید کہا کہ قدرتی گیس سے متعلق تحفظات کو صرف بحیرہ کیسپین کے ساحل سے منسلک پانچ ممالک روس، ترکمانستان ، آزر بائجان، قازکستان اور ایران کو ہی طے کرنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان پانچوں ممالک نے 2007ء میں ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت انہیں کئی اہم امور پر اتفاق رائے حاصل کرنے کا پابند بنایا گیا ہے جن میں بین الاقوامی پائپ لائنوں کی تنصیب بھی شامل ہے۔

پیر کے روز یورپی یونین نے بحیرہ کیسپین کے راستے ترکمانستان سے آزر بائیجان تک گیس پائپ لائن کی تکمیل میں مدد سے متعلق ایک معاہدے پر اتفاق کیاتھا۔

وہاں سے قدرتی گیس پائپ لائنوں کے ذریعے یورپی یونین اور امریکہ کی نبسکو پائپ لائن کے توسط سے ، روس کی بجائے ایک مختلف راستے سے مغربی یورپ پہنچائی جائے گی۔

روس بھی اس وقت علاقے کے جنوبی حصے میں پائپ لائن بچھارہاہے جہاں پر حریف کمپنی نبسکو کا پراجیکٹ بھی موجود ہے۔

XS
SM
MD
LG