رسائی کے لنکس

روس: انٹرنیٹ اور جمہوری تحریک

  • جیمز بروک

روس: انٹرنیٹ اور جمہوری تحریک

روس: انٹرنیٹ اور جمہوری تحریک

روس میں احتجاج کی تحریک اتنی تیزی سے پھیلی اور منظم ہوئی کہ برسرِ اقتدار طبقے کے بہت سے لوگ حیران رہ گئے۔ روس میں سینسر کی پابندیوں سے آزاد انٹرنیٹ کے ذریعے لوگ ایک دوسرے سے رابطہ قائم کرتے ہیں، سیاسی اجتماعات منظم کرتے اور ان کے لیے پیسہ اکٹھا کرتے ہیں، اور یہ سب کمپیوٹرز کے ذریعے ہوتا ہے۔

وزیرِ اعظم ولا دمیر پوٹن 4 مارچ کے انتخابات میں صدر کے عہدے کے اُمیدوار ہیں۔ ان کی انتخابی مہم کی ویب سائٹ میں انہیں اسکینگ اور اسکیٹنگ کرتے، اور جوڈو کا مقابلہ کرتے دکھایا گیا ہے۔

لیکن انٹرنیٹ پر، ساشا بارون کوہن کی کامیڈی ،دی ڈکٹیٹر کے ایک مزاحیہ خاکے میں دکھایا گیا ہے کہ روس کے لیڈر صدارتی انتخاب کی دوڑ کس طرح جیتتے ہیں۔ وہ دوڑ شروع کرنے کا اشارہ دینے کے لیے استعمال ہونے والے پستول سے، اپنے مخالف امیدوار کو گولی مار دیتے ہیں۔

فلم ٹائٹانک کے ایک منظر میں، وہ اور ڈوما کے سابق اسپیکر، بورس گرائزلاف، ایک بہت بڑے برفانی تودے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

ایک اور وڈیو میں، سفید کوٹ پہنے ہوئے ماہر ینِ نفسیات، کورس کی شکل میں رقص کر رہے ہیں اور وہ جو گیت گا رہے ہیں اس کے بول ہیں، "Our Madhouse Vote for Putin.۔

اس وڈیو نے جسے دس لاکھ سے زیادہ لوگوں نے دیکھا، یو ٹیوب کے حالیہ میوزک وڈیو کے مقابلے میں انعام جیتا۔

اس قسم کے آن لائن وڈیوز سے اس نسل کی سوچ متاثر ہو رہی ہے جو اگلے عشرے میں مسٹر پوٹن کے روس پر حکومت کرنے کے منصوبے کے خلاف سرا پا احتجاج ہے۔ اب جب کہ پانچ کروڑ روسی آن لائن ہیں، بہت سے روسیوں نے سرکاری ٹیلیویژن پر خبروں کے پروگرام دیکھنے بند کر دیے ہیں۔

ماسکو میں ایک امریکی ماہرِ سیاسیات، سام گرین کہتے ہیں کہ روسی انٹرنیٹ نے ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں کہ یا تو ٹیلیویژن کی خبروں کے انداز کو تبدیل کرنا ہوگا، یا پھر انہیں کوئی نہیں دیکھے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’انہیں 24 دسمبر کے پوٹن کی مخالفت میں ہونے والے احتجاج کو کور کرنا پڑا۔ ٹیلیویژن پر اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا۔ ایسا کئی وجوہ کی بنا پر ہوا۔ پہلی تو یہ کہ یہ خبر انٹرنیٹ پر آجاتی، اور وہاں تفصیل سے اس کا ذکر ہوا بھی۔ پھر یہ بات بھی ہوئی کہ سڑکوں پر کوئی ایک لاکھ سے لے کر ایک لاکھ بیس ہزار تک لوگ نکل آئے تھے، جسے نظر انداز کرنا مشکل تھا۔ اس طرح ٹیلیویژن پر اس خبر کو نشر کرنا ہی پڑا۔‘‘

سائبر اسپیس میں، مسٹر پوٹن کے حامیوں نے اپنی انتخابی مہم کی انٹر ایکٹو ویب سائٹ سے جوابی حملہ کیا۔ لیکن ایک بار پھر، ان کے مخالفین نے ویب پر زیادہ پھرتی کا مظاہرہ کیا۔

انھوں نے فوری طور پر اس قسم کی تجاویز جیسے آندرے اینٹونینکو کا یہ مشورہ پوسٹ کر دیا کہ براہِ مہربانی سیاست کا پیچھا چھوڑ دیجیئے۔ یہ بات ظاہر ہے کہ طاقت کا نشہ برا ہوتا ہے۔

اس قسم کے پوٹن مخالف تبصرے فوری طور پر آن لائن ووٹنگ میں بالکل اوپر آ گئے۔ انتخابی مہم کے کارکنوں نے انہیں نیچے کر دیا لیکن اسکرین پر وہ فوری طور پر پھر اوپر پہنچ گئے ۔ گرین جو روس کے دارالحکومت میں ایک نیو میڈیا پروگرام بھی چلاتے ہیں، کہتے ہیں کہ انہیں یہ بات سمجھ لینی چاہیئے تھی کہ ایسا ہوگا۔ وہ اس کا اندازہ لگانے میں ناکام رہے۔

عجیب بات یہ ہے کہ مسٹر پوٹن کی انتخابی مہم کی ویب سائَٹ پر، ان کی پارٹی، یونائیٹڈ رشیا کہیں نظر نہیں آتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اٹرنیٹ بلاگر الیکسے ناولنی نے پارٹی کے برانڈ کو تباہ کر دیا تھا۔ انھوں نے اس پر دھوکے بازوں اور چوروں کی پارٹی کا لیبل لگا دیا تھا جس سے جان چھڑانا مشکل ہو گیا ہے۔

روس کی حکومت تو انٹرنیٹ پر انفارمیشن کی جنگ ہار رہی ہے، لیکن حزبِ اختلاف اب انٹرنیٹ پر اپنے جلسے جلوسوں کے لیے پیسے اکٹھے کرتی ہے۔ الیکسے کوزلاف نے تقریباً 5,000 چندہ دینے والوں سے آن لائن 130,000 ڈالر کی رقم جمع کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ چندوں کی ادائیگی کے سسٹم یانڈیکس منی کے تحت زیادہ سے زیادہ 500 ڈالر کی رقم دی جا سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ایک دو مالدار لوگ احتجاج کرنے والوں کو پیسہ دے رہے ہیں۔

اس کے علاوہ، یانڈیکس منی کا نظام صرف روس کے اندر کام کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کوئی یہ الزام نہیں لگا سکتا کہ اس تحریک کے لیے امریکہ پیسے دے رہا ہے۔

آخری بات یہ ہے کہ حزبِ اختلاف فیس بُک اور سوشل نیٹ ورکس کی دوسری سائٹس استعمال کرتی ہے تا کہ لوگوں کو احتجاجوں کے بارے میں باخبر رکھا جا سکے۔ ماسکو کے وسط میں ایک بہت بڑا مارچ شروع ہونے سے دو ہفتے قبل، شہر میں کہیں بھی سیاسی نعرے یا سیاسی پوسٹرز نظر نہیں آتے تھے۔ لیکن اگر احتجاج کی منصوبہ بندی کرنے والوں نے اپنا ٹارگٹ حاصل کر لیا، تو 4 فروری کو انٹرنیٹ سے رہنمائی حاصل کرنے والا ایک لاکھ افراد کا ہجوم ایک بار پھر سڑکوں پر موجود ہوگا۔

XS
SM
MD
LG