رسائی کے لنکس

شہریوں کے تحفظ کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں: پوٹن


do no use on website. this is for a timeline

do no use on website. this is for a timeline

یوکرین سے متعلق اپنے براہ راست بیان میں یوکرین میں سیاسی طاقت کی تبدیلی کو ’’غیر آئینی بغاوت اور مسلح قوت کے استعمال سے اقتدار پر قبضے‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔

روسی صدر ولادیمر پوٹن نے کہا کہ یوکرین میں روس کے شہریوں کے تحفظ کے لیے اُن کی حکومت ہر طرح کے اقدامات کے لیے تیار ہے، تاہم اُنھوں نے اس اُمید کا اظہار بھی کیا کہ طاقت کا استعمال نہیں کرنا پڑے گا۔

یوکرین سے متعلق اپنے براہ راست بیان میں یوکرین میں سیاسی طاقت کی تبدیلی کو ’’غیر آئینی بغاوت اور مسلح قوت کے استعمال سے اقتدار پر قبضے‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔

مسٹر پوٹن کا اصرار تھا کہ وکٹر یانوکووچ اب بھی یوکرین کے’’قانونی‘‘ رہنما ہیں باوجود اس کے کہ ان کے دوبارہ منتخب ہونے کا امکان نہیں۔

اُدھر امریکہ کے وزیرخارجہ جان کیری منگل کو یوکرین کی خودمختاری کی حمایت کے عزم کے ساتھ دارالحکومت کیف پہنچ رہے ہیں جب کہ اسی دوران کریمیا میں روسی افواج کی موجودگی سے وہاں بحران کی سی صورتحال پیدا ہو چلی ہے۔

امریکہ محکمہ خارجہ کی ترجمان جین ساکی کا کہنا تھا کہ کیری یوکرین کی عبوری حکومت کے ارکان سے ملاقاتیں کریں گے جس میں اقتصادی و سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کے علاوہ اس بات کا بھی جائزہ لیا جائے گا کہ امریکہ اس ملک کی ’’اور کس طرح سے اضافی مدد‘‘ کر سکتا ہے۔

امریکہ اور اس کے یورپی اتحادی یوکرین میں فوجی نقل و حرکت کی وجہ سے روس پر پابندیاں عائد کرنے کا سوچ رہے ہیں۔

دریں اثناء روس کے صدر ولادیمر پوٹن نے یوکرین کی سرحد کے قریب سے مشقوں میں مصروف اپنے ہزاروں فوجیوں کو واپس اپنے اڈوں پر جانے کا حکم دیا ہے۔ یہ مشقیں ویسے بھی اختتام پذیر ہونے والی تھیں لہذا یہ واضح نہیں کہ آیا یہ اقدام صورتحال کی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کیا گیا۔

ماسکو اس بات کی تردید کر چکا ہے کہ گزشتہ ہفتے شروع ہونے والی مشقوں کا تعلق یوکرین کی صورتحال سے تھا۔

قبل ازیں امریکہ نے کہا تھا کہ روس یوکرین کے جزیرہ نما کریمیا میں کشتیوں کے ذریعے اپنے فوجی پہنچا رہا ہے۔ یہ بیان روسی فوجیوں کی طرف سے پیر کو یوکرین کی ایک سرحدی چوکی پر قبضے کے بعد سامنے آیا۔

اقوام متحدہ میں واشنگٹن کی سفیر سمانتھا پاور نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں اس فوجی نقل و حرکت کی تصدیق کی۔

سمانتھا نے یوکرین میں روسی فوج کی موجودگی کی وضاحت کو مسترد کرتے ہوئے روس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

سلامتی کونسل کے ایک ہنگامی اجلاس میں انھوں نے کہا کہ روسی مداخلت ایک " جارحانہ اقدام" ہے نا کہ کوئی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مشن جیسا کہ ماسکو اسے ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

سمانتھا نے کونسل کو بتایا کہ روس کو یہ حق حاصل ہے وہ صورتحال کی تبدیلی کی خواہش رکھے لیکن ان کے بقول ایسا کرنے کے لیے اسے فوجی طاقت استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں۔

روس کے سفیر ویتالے چرکن نے اس موقع پر یوکرین کے برطرف صدر وکٹر یانوکووچ کا ایک تحریری بیان پڑھ کرسنایا جس میں انھوں نے ماسکو کو فوجی مداخلت کی درخواست کی تھی۔ بیان کے مطابق یہ مداخلت یوکرین میں امن و استحکام کے لیے ضروری تھی۔

قبل ازیں امریکہ کے صدر براک اوباما نے متنبہ کیا کہ اگر روس فوج واپس نہیں بلاتا تو سفارتی اور اقتصادی پابندی عائد کی جاسکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرین میں روس "تاریخ کی غلط سمت" میں ہے۔
XS
SM
MD
LG