رسائی کے لنکس

کیوبا، ویتنام میں فوجی اڈے دوبارہ کھولنے کا معاملہ زیرِ غور: روس


دمتری پیسکوف (فائل)

دمتری پیسکوف (فائل)

سنہ 1991 میں سویت یونین کا شیرازہ بکھر جانے کے بعد بھی روس نے اپنی تنصیبات کو جاری رکھا، جب کہ بالترتیب 2001ء اور 2002ء میں انھیں بند کر دیا گیا۔ روس اِن دنوں شام میں ایک فضائی اور ایک بحری اڈا چلا رہا ہے

ایسے میں جب امریکہ اور روس کے درمیان تعلقات بگڑتے جا رہے ہیں، روسی خبر رساں ادارے نے ایک اعلیٰ دفاعی اہل کار کے حوالے سے بتایا ہے کہ کیوبا اور ویتنام میں روسی دفاعی تنصیبات دوبارہ کھولنے کا معاملہ زیرِ غور ہے۔

روسی پارلیمان کے ایوانِ زیریں، ’ڈوما‘ کے اجلاس کے دوران جمعے کو قانون سازوں کے سوال پر آیا کیوبا اور ویتنام جیسے ملکوں میں روسی فوج کی دوبارہ تعیناتی ممکن ہے، معاون وزیر دفاع نکولائی پینکوف نے جواب دیا: ’’ہم یہ کام کر رہے ہیں‘‘۔ تاہم، اُنھوں نے مزید تفصیل نہیں بتائیں۔

سنہ 1960 کی دہائی کے دوران، روس نے کیوبا کے شہر لورڈیز میں انٹیلی جنس کے سگنلز کا اڈا قائم کیا، جب کہ 1970 کی دہائی کے اواخر میں ویتنام کے شہر کیم ران بے میں بحریہ کا اڈا تعمیر کیا گیا۔
سنہ 1991 میں سویت یونین کا شیرازہ بکھر جانے کے بعد بھی روس نے اپنی تنصیبات کو جاری رکھا، جب کہ بالترتیب 2001ء اور 2002ء میں انھیں بند کر دیا گیا۔
روس اِن دنوں شام میں ایک فضائی اور ایک بحری اڈا چلا رہا ہے۔

روسی خبر رساں ادارے کے مطابق، کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف سے بھی جمعے کو کیوبا اور ویتنام کے اڈے دوبارہ قائم کھولنے سے متعلق سوال کیا گیا۔ اُنھوں نے اس پر براہِ راست ردِ عمل ظاہر کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ
یہ سوال وزار دفاع سے کیا جانا چاہیئے۔
تاہم، پیسکوف کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ’’بین الاقوامی صورتِ حال مستقل نہیں ، بلکہ یہ بدل رہی ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ گذشتہ دو برس کے دوران بین الاقوامی امور اور بین الاقوامی سکیورٹی ضابطوں میں ردو بدل ہوا ہے۔
اس لیے، قدرتی طور پر، تمام ملکوں کے اپنے قومی مفادات کے مطابق آنے والی تبدیلیوں کا تجزیہ کیا جا رہا ہے اور اس سلسلے مین درکار اقدام کیے جائیں گے‘‘۔
جولائی، 2014ء میں، صدر ولادیمیر پیوٹن نے میڈیا رپورٹس کی تردید کی تھی کہ روس کیوبا کے شہر لورڈیز میں سگنلز کا انٹیلی جنس اڈا دوبارہ نہیں کھول رہا۔
روسی دفاعی تنصیبات کے دوبارہ کھلنے کے بارے میں بیانات ایسے میں سامنے آئے ہیں جب روس اور امریکہ کے درمیان تناؤ بڑھا ہوا ہے۔
پیر کے روز، امریکہ نے شام میں جنگ بندی سے متعلق روس کے ساتھ بات چیت کو معطل کرنے کا اعلان کیا۔ بیان میں شام میں جاری فوجی حملوں کا حوالہ دیا گیا جن کا ہدف شہری آبادی بن رہی ہے۔ اُسی روز، صدر ولادیمیر پیوٹن نے ہتھیار تشکیل دینے کی سطح کے پلوٹونئم کو تلف کرنے کا سمجھوتا معطل کردیا۔ اپنے بیان میں پیوٹن نے امریکہ پر ’’غیر دوستانہ اقدامات‘‘ کا الزام لگایا، جس سے ان کا مطلب یوکرین میں اقدامات پر روس کے خلاف نافذ کی گئی تعزیرات تھا۔
بدھ کے روز، روس نے امریکہ کے ساتھ جوہری اور توانائی سے متعلق تحقیق پر تعاون کا سمجھوتا معطل کر دیا۔

XS
SM
MD
LG