رسائی کے لنکس

متعدد مبصرین کا خیال ہے کہ روسی فوج کی براہِ راست مداخلت کے باعث ہی علیحدگی پسندوں کے خلاف حکومتِ یوکرین کی افواج کی طرف سے کی جانے والی کارروائی ناکام ہوئی

جنگ بندی کے دوران مشرقی یوکرین کے خطے کے سب سے بڑے شہر میں گولہ باری جاری رہی۔ دو شہریوں کی ہلاکت کے باوجود، یوکرین کے وزیر اعظم نے بدھ کے روز ملک کی مسلح افواج سے کہا ہے کہ وہ ’مکمل کارروائی کے لیے تیار رہیں‘۔

وزیر اعظم آرسنی یاتسنیوک نے کابینہ کے ارکان کو بتایا کہ امن کے حصول کے لیے، پانچ ستمبر کو جنگ بندی کے جس سمجھوتے پر دستخط کیے گئے اُس کی ضرورت تھی، تاکہ حکومتی افواج اور روس نواز علیحدگی پسندوں کے مابین ہونے والی لڑائی بند ہو۔

تاہم، یوکرین کے وزرائے داخلہ اور دفاع کوئی عافیت و افاقہ محسوس نہیں کرتے، کیونکہ، بقول اُن کے، ’یقینی طور پر، روس ہمیں نہ امن دے گا، نہ استحکام‘۔

نیٹو نے کہا ہے کہ منگل کے دِن روس کے 1000 کے قریب فوجی مشرقی یوکرین میں موجود تھے۔

متعدد مبصرین کا خیال ہے کہ روسی فوج کی براہِ راست مداخلت کے باعث ہی علیحدگی پسندوں کے خلاف حکومتِ یوکرین کی افواج کی طرف سے کی جانے والی کارروائی ناکام ہوئی۔


دریں اثنا، مشرقی یوکرین میں دونیسک کے باغیوں کے زیر محاصرہ شہر کے میونسپل عہدے داروں کا کہنا ہےکہ بدھ کو ایک رہائشی علاقے میں ہونے والی شدید گولہ باری کے نتیجے میں دو شہری ہلاک جب کہ تین زخمی ہوئے۔

جنگ بندی کے باوجود، دونیسک کے علاقے میں شہری ہلاکتوں میں اضافہ جاری رہا۔

منگل کو یوکرین کے پارلیمان کی طرف سے باغیوں کے زیر کنٹرول دونیسک اور لہانسک کے علاقوں کے کچھ حصوں کو عارضی خودمختاری کی تجویز کی منظوری کے بعد، یہ پہلی ہلاکتیں بتائی جاتی ہیں۔

پارلیمان نے ایک اور قانون کی منظوری بھی دی جس کے تحت باغی لڑاکوں کو عام معافی کے لیے کہا گیا ہے، ماسوائے اُن کے جو ’سنگین جرائم‘ میں مرتکب پائے گئے ہوں۔

یہ نئے قوانین جنھیں یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشنکو نے تجویز کیا تھا، اِن کا مقصد پانچ ماہ سے جاری علیحدگی پسندوں کی بغاوت کو ختم کرنا ہے، جس کے نتیجے میں اب تک تقریباً 3000افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جن نے باعث سیاسی اور معاشی طور پر یوکرین کا کاروبارِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG