رسائی کے لنکس

تیل کی گرتی قیمتوں کے عالمی معیشت پر اثرات

  • ہنری رجویل

گذشتہ چند مہینوں سے تیل کی قیمتیں بتدریج کم ہو رہی ہیں، اور یہ اندیشہ پیدا ہو رہا ہے کہ روس کی معیشت جو توانائی کی برآمدات پر انحصار کر تی ہے، مشکلات کا شکار نہ ہو جائے ۔ اس دوران تیل کے نئے ذرائع دریافت ہو رہے ہیں اور پیٹرول پمپ پر قیمتیں مزید کم ہو رہی ہیں۔ عالمی معیشت کے لیے یہ بڑا کٹھن وقت ہے۔ تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کا عالمی معیشت پر کیا اثر پڑ رہا ہے، اس بارے میں لندن سے وائس آف امریکہ کے نامہ نگار ہنری رجویل کی رپورٹ۔

روس کے تقریباً 70 فیصد تیل کے کنویں سائبیریا میں خانتے۔ مینسیسک میں واقع ہیں۔ ملک کی دولت کا بڑا حصہ یہیں سے حاصل ہوتا ہے ۔

روس روزانہ ایک کروڑ بیرل سے زیادہ تیل پیدا کرتا ہے، اور توانائی کی مارکیٹ میں اس کا رول بہت اہم ہے ۔ سنٹر فار یورپیئن ریفارم میں توانائی کے ماہرِ معاشیات اسٹیفن ٹنڈیل کہتے ہیں’’روسی حکومت کی آمدنی کا تقریباً نصف حصہ تیل اور گیس کی بر آمدات پر لگنے والے مختلف ٹیکسوں سے حاصل ہوتا ہے۔‘‘

ٹنڈیل کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ تیل کی قیمتوں میں کمی روسی معیشت کے لیے خطرناک ہے ۔’’اس کا مطلب یہ ہو ا کہ ان کا بجٹ متوازن نہیں ہو گا۔ لہٰذا پوٹن اور روسی حکومت کے لیے سنگین مسائل پیدا ہو جائیں گے۔‘‘

گذشتہ چند ہفتوں کے دوران تیل کی قیمتیں گرنا شروع ہو گئی ہیں۔ مارچ میں تیل کی قیمت 125 ڈالر فی بیرل تھی اور جون میں کم ہو کر 100 ڈالر رہ گئی۔ لندن کے غیر جانبدار پالیسی انسٹی ٹیوٹ، Chatham House کے پاؤل اسٹیونز کہتے ہیں کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے، اسے سمجھنے کے لیے ہمیں یہ دیکھنا چاہیئے کہ سال کے شروع میں قیمتیں اتنی زیادہ کیوں تھیں۔’’تیل کی مانگ بڑھنا شروع ہو گئی تھی جب کہ اس کی رسد کی راہ میں رکاوٹیں حائل تھیں ۔ شام سے تیل ملنا بند ہو گیا تھا، یمن ہمارے ہاتھ سے نکل گیا تھا، جنوبی سوڈان سے تیل نہیں مل رہا تھا، اور کسی حد تک لیبیا اب تک مارکٹ میں واپس نہیں آیا تھا۔‘‘

اب تیل کی مانگ کم ہو رہی ہے اور اس کی وجہ عالمی معیشت کے بارے میں اندیشے ہیں۔ روسی تیل بر آمد کرنے والوں کی لیے یہ بری خبر ہو سکتی ہے ۔اس کے علاوہ عراق میں تیل کے کچھ نئے کنوؤں نے کام شروع کر دیا ہے ، مثلاً اپریل میں روس کی بڑی کمپنی لک آئل کے اشتراک سے مغربی قرنا میں نئے کنوؤں سے تیل نکلنا شروع ہو گیا ہے۔ لک آئل کے نائب صدر سرگئی نکیفروف کہتے ہیں’’آج، عراق اور روس نے مغربی قرنا کے تیل کے بہت بڑے کنویں کا افتتاح کیا ہے۔ اس کا شمار دنیا کے سب سے بڑے کنوؤں میں ہوتا ہے ۔‘‘

Chatham House کے اسٹیونز کہتے ہیں کہ اس قسم کی نئی دریافتوں سے ، دنیا میں حالیہ ہنگاموں کے اثرات زائل ہو رہے ہیں۔’’تیل کی رسد بھی بہتر ہوئی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ عراق سے زیادہ تیل ملنا شروع ہو گیا ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اوپیک کے دوسر ے ممالک، خاص طور سے سعودی عرب نے، اپنی پیداوار بڑھا دی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ ایرانی تیل کی کمی کو پورا کرنا چاہتے ہیں جو ایران پر پابندی لگنے سے پیدا ہوئی ہے ۔‘‘

اگرچہ مختصر مدت کے لیے تیل کی قیمتوں میں بتدریج کمی ہو سکتی ہے، لیکن اسٹیونز کہتے ہیں کہ کوئی ایک واقعہ، جیسے ایران کے نیوکلیئر پروگرام پر اسرائیلی حملہ، قیمتوں میں فوری اور زبردست اضافے کا سبب بن سکتا ہے اور قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG