رسائی کے لنکس

موجودہ عالمی حالات میں روس کا فائدہ

  • جیمز بروک

صدر دمتری میدویدف نے بتایا کہ اگلی جنوری میں سپاہیوں کی تنخواہیں تین گنی کر دی جائیں گی۔

صدر دمتری میدویدف نے بتایا کہ اگلی جنوری میں سپاہیوں کی تنخواہیں تین گنی کر دی جائیں گی۔

دنیا کے وسیع علاقے آج کل بے چینی اور قدرتی آفات کی لپیٹ میں ہیں۔ تیل کی قیمت میں زبردست اضافہ ہوا ہے اور اس کا فائدہ روس کو ہو رہا ہے۔ ممکن ہے کہ اس کے 2011ء کے بجٹ کا خسارہ بالکل ختم ہو جائے۔

لیبیا نے تیل کی بر آمد روک دی ہے ۔ خلیجِ فارس سیاسی انقلابوں کی زد میں ہے۔ جرمنی اور جاپان نے اپنے ایک چوتھائی نیوکلیئر ری ایکٹر بند کر دیے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ آج کی دنیا میں جیت صرف روس کی ہو رہی ہے جو دنیا میں توانائی کا گیارہ فیصد حصہ پیدا کرتا ہے اور توانائی بر آمد کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ توقع ہے کہ اس سال تیل کی قیمت سو ڈالر فی بیرل ہو جائے گی۔ آمدنی میں اتنے زبردست اضافے کی بدولت اس سال روس کے بجٹ کا خسارہ ختم ہو جائے گا۔ کریملن کے لیے یہ سب بہت بَروقت ہوا ہے۔

روس میں انتخابات کا سلسلہ شروع ہونے والا ہے اور حکومت نے تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔ تازہ ترین اعلان جمعہ کے روز ہوا جب صدر دمتری میدویدف نے بتایا کہ اگلی جنوری میں ، انتخاب کے دن سے صرف دس ہفتے قبل، سپاہیوں کی تنخواہیں تین گنی کر دی جائیں گی۔ روس کے بجٹ کی آمدنی کا چالیس فیصد حصہ تیل اور گیس سے حاصل ہوتا ہے۔ قیمتیں جیسے ہی 27 ڈالر فی بیرل سے زیادہ ہوتی ہیں، روس کی وزارت مالیات ہر ایک ڈالر میں سے 90 سینٹ لے لیتی ہے۔

لیونڈ گریگوریو ماسکو کے ہائر اسکول آف اکنامکس سے وابستہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں’’یہی وجہ ہے کہ روس تیل پر اور تیل کی قیمتوں پر اتنا زیادہ انحصار کرتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ دنیا میں کہیں بھی ہنگامہ ہو، وزارتِ مالیات کے پاس فوری طور پر پیسہ آنے لگتا ہے ۔‘‘

آج کل روس میں غیر ملکی کرنسی کے محفوظ ذخائر میں ہر ہفتے دس کروڑ ڈالر کا اضافہ ہو رہا ہے۔ مارچ کے آخر تک، روس کے کُل محفوظ ذخائر 500 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔ چین اور جاپان کے بعد ، یہ تیسرے سب سے بڑے ذخائر ہوں گے۔ اقتصادی ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ 2011ء کے لیے روس کی اقتصادی ترقی کی شرح پانچ فیصد تک پہنچ جائے گی۔ تیل کی کمائی میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کا فائدہ روسی صارفین کو بھی ہوتا ہے۔ گذشتہ سال کاروں کی فروخت اور بیرونی ملکوں کے سفر میں ایک تہائی کا اضافہ ہوا۔ اگلے سال، یورپ کی کاروں کی سب سے بڑی منڈی کی حیثیت سے روس، جرمنی کو پیچھے چھوڑ دے گا۔

لمبے عرصے پر نظر ڈالیں تو تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جاپان کےنیوکلیئر بحران سے روس کو فائدہ پہنچ سکتا ہے کیوں کہ دنیا کی توجہ نیوکلیئر توانائی سے ہٹ کر قدرتی گیس کی طرف ہو جائے گی۔ اس معاملے کا منفی پہلو یہ ہے کہ قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ، کرپشن میں کمی کرنے، معیشت کو زیادہ متنوع بنانے اور کاروباری معاملات میں حکومت کے عمل دخل کو کم کرنے کے لیے دباؤ کم ہو جاتا ہے۔

Uralsib Capital کے کرس ویفر کہتے ہیں کہ تیل کی آمدنی میں زبردست اضافے کی وجہ سے کریملن کا نجکاری کا پروگرام پس پشت جا پڑا ہے۔ ان کا کہنا ہے’’ہم نے خلیج کے عرب ملکوں میں اور گذشتہ 10 برسوں میں روس میں یہی دیکھا ہے کہ تیل کی قیمت میں اضافے کے ساتھ، حکومتیں اصلاحات کی اور پیسے کو دانشمندی کے ساتھ خرچ کرنے کی باتیں کرتی ہیں۔ لیکن اگر قیمیتں بہت زیادہ تیزی سے بڑھ جائیں، تو یہ سارا عمل سست پڑ جاتا ہے، لوگ آرام طلبی کے عادی ہو جاتے ہیں، اور عیش و عشرت کی زندگی گذارنے لگتے ہیں، یہاں تک کہ ایک بار پھر حالات خراب ہو جاتے ہیں اور پھر وہی پرانا چکر شروع ہو جاتا ہے۔‘‘

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق، روسیوں کو سب سے زیادہ شکایت غذائی اشیاء کی قیمتوں اور کرپشن سے ہے۔ ٹرانپیرنسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ 20G کے ملکوں کی سب سے بڑی معیشتوں میں، روس سب سے زیادہ کرپٹ معیشت والا ملک ہے۔ گذشتہ ہفتے ماسکو میں تقریر کرتے ہوئے، امریکی نائب صدر جو بائڈن نے واضح الفاظ میں روس کو انتباہ کیا کہ کرپشن کی وجہ سے سرمایہ کار پیسہ لگانے سے ڈرتے ہیں۔ جب تک صحیح معنوں میں اور جرأت کے ساتھ تبدیلی نہیں لائی جائے گی، سرمایہ کار اپنا پیسہ لگانے سے گھبرائیں گے۔ جو بائڈن کی تقریر کے ساتھ ہی، نئے اعداد و شمار آنا شروع ہوئے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے اور روس میں اسٹاک مارکیٹ کی قیمتوں میں تیزی کے باوجود، فروری کے مہینے میں ملک میں سرمایہ کاری میں کمی ہوئی۔

روس کے افق پر ایک اور سیاہ بادل آبادی میں کمی کا رجحان ہے۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ اس عشرے میں، روس میں کام کرنے والے لوگوں کی تعداد میں ایک کروڑ افراد یا پندرہ فیصد کی کمی آئے گی۔ اس مسئلے کے جو ممکنہ حل ہیں، انھیں کوئی پسند نہیں کرتا یعنی ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافہ، تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ اور غیر ملکی سرمایہ کاری کےذریعے کارکنوں کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا۔ اور ان میں سے کوئی بھی اقدام اب سے ایک سال بعد ، یعنی روس میں صدارتی انتخاب سے پہلے نہیں کیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG