رسائی کے لنکس

سرچ آپریشن جاری، روس میں یوم سوگ


A person lays flowers in memory of passengers and crew members of Russian military Tu-154, which crashed into the Black Sea on its way to Syria on Sunday, at an embankment in the Black Sea resort city of Sochi, Russia, December 26, 2016.

A person lays flowers in memory of passengers and crew members of Russian military Tu-154, which crashed into the Black Sea on its way to Syria on Sunday, at an embankment in the Black Sea resort city of Sochi, Russia, December 26, 2016.

روس کے وزیر برائے ٹرانسپورٹ نے کہا ہے کہ طیارہ حادثے کی وجہ پائلٹ کی غلطی یا تکنیکی خرابی ہو سکتی ہے۔

اُدھر اس فضائی حادثے کے بعد بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن جاری ہے۔

روس کی فوج کا ’ٹی یو – 154‘ طیارہ اتوار کو بحیرہ اسود میں گر کر تباہ ہو گیا تھا جس سے اس پر سوار 84 مسافر اور عملے کے آٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

روس کے وزیر برائے ٹرانسپورٹ میکسم سوکولوو نے پیر کو ٹیلی ویژن کے ذریعے جاری کیے گئے اپنے بیان میں کہا کہ طیارہ حادثے کی بنیادی وجوہات میں دہشت گرد حملے کو اس حادثے کی ممکنہ وجہ کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا ہے۔

فضائی حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تلاش کے کام میں لگ بھگ تین ہزار افراد حصہ لے رہے ہیں۔

اس سرچ آپریشن میں بحری جہاز، آبدوزیں اور ہیلی کاپٹر بھی استعمال کیے جا رہے ہیں، اطلاعات کے مطابق 10 مربع کلومیٹر سے زائد آبی علاقے میں تلاش کا یہ کام جاری ہے۔

روس میں سوچی کے ہوائی اڈے سے اڑان بھرنے کے کچھ ہی منٹ بعد فوجی طیارے کا کنٹرول ٹاور سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا، یہ طیارہ شام جا رہا تھا۔

طیارے پر روس کی مسلح افواج کے میوزک بینڈ سے تعلق رکھنے والے موسیقار بھی سوار تھے۔

روس کے صدر ولادیمر پوٹن نے اس فضائی حادثے کے بعد پیر کو ملک بھر میں سوگ کا اعلان کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG