رسائی کے لنکس

پوٹن کی متوقع فتح کے امریکہ روس تعلقات پر ممکنہ اثرات

  • آندرے نیسنیرا

روس کے صدر اور وزیراعظم

روس کے صدر اور وزیراعظم

صدر براک اوباما نے روس کے ساتھ تعلقات میں بہتری کو اپنی خارجہ پالیسی کا اہم جزو قرار دیا ہے۔ روس کے صدر ولادیمر پوٹن کے ساتھ انھوں نے امریکہ کے تعلقات کو نئے انداز سے استوار کیا۔ اس کے نتیجے میں تخفیفِ اسلحہ کا ایک بڑا سمجھوتہ ہوا اور افغانستان، ایران اور لیبیا جیسے مسائل پر تعاون میں اضافہ ہوا۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ آج کل واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان تعلقات میں سرد مہری آ گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ کی اس قرارداد کو ویٹو کرنے میں، جس میں شام کے صدر بشارالاسد سے اپنا عہدہ چھوڑنے کے لیے کہا گیا تھا روس نے چین کا ساتھ دیا۔

امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے اس ووٹ کو انصاف کے منافی قرار دیا۔ روس کے لوگ اتوار کو ایک نیا صدر منتخب کرنے کے لیے ووٹ ڈالیں گے۔ توقع ہے کہ موجودہ وزیرِ اعظم ولادیمر پوٹن یہ انتخاب جیت جائیں گے۔ وہ اس عہدے کے لیے نئے نہیں ہیں۔ 2000 سے 2008 تک وہ روس کے صدر رہ چکے ہیں۔

یہ صدارتی انتخابات دسمبر کے پارلیمانی انتخاب میں وسیع پیمانے پر دھاندلیوں کے الزامات کے بعد ہو رہے ہیں۔ ان الزامات کے نتیجے میں روس کے بڑے بڑے شہروں میں زبردست مظاہرے ہوئے اور ان سے مسٹر پوٹن کے اختیار کو براہِ راست خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں روس کے امور کی ماہر اینجیلا سٹینٹ کہتی ہیں کہ اپنی انتخابی مہم کے دوران ولادیمر پوٹن نے ایک جانا پہچانا حربہ استعمال کیا ہے۔ ’’انھوں نے ایک ایسے حربے کا سہارا لیا ہے جو 2000 میں ان کے صدر بننے کے بعد سے اب تک استعمال کیا جاتا رہا ہے، یعنی امریکہ کو دشمن بنا کر پیش کرنا، روس کے بہت سے مسائل کے لیے امریکہ کو الزام دینا۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، پارلیمینٹ یعنی ڈوما کے انتخابات میں، انھوں نے وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن پر حزبِ اختلاف کی حمایت کرنے اور روس میں استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے کا الزام عائد تھا‘‘۔

روس کے امور کے ماہر رابرٹ لیگولڈ ایک اور مثال کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’جب نئے امریکی سفیر مائیکل مک فل نے حزبِ اختلاف کی شخصیتوں کو مدعو کیا، تو اگرچہ یہ کوئی عام میٹنگ نہیں تھی، پھر بھی حکام کو اس کے بارے میں علم تھا اور انھوں نے یہ انتظام کیا کہ اس کی فلم بنانے کے لیے کیمروں کے ساتھ لوگ موجود ہوں۔ اور پھر میڈیا نے، یقیناً پوٹن کے شہ دلانے پر سفیر مک فل پرحملے شروع کر دیے کہ انھوں نے اس قسم کی میٹنگ بلائی اور پھر انھوں نے حزبِ اختلاف پر الزام لگایا کہ اس نے امریکہ سے فنڈز حاصل کیے ہیں‘‘۔

امریکی حکومت کے عہدے داروں نے ان الزامات سے انکار کیا ہے۔ امریکہ کے خلاف اس قسم کی بیان بازی کی روشنی میں، یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ امریکہ اور روس کے درمیان تعلقات پر پوتن کی صدارت کا کیا اثر پڑے گا۔

ریاست میساچوسٹس میں سمتھ کالج کے پروفیسرسرگی گلیبو کہتے ہیں کہ مسٹر پوٹن کے لیے اشتعال انگیز اور امریکہ مخالف بیانات کوئی نئی بات نہیں۔ ’’بہت سے کیسوںمیں، یہ تندوتیز بیانات بین الاقوامی سیاست کے بجائے، ملک کے اندر لوگوں کو خوش کرنے کے لیے دیے گئے تھے۔ مقصد چاہے کچھ ہی کیوں نہ ہو، ایسا لگتا ہے کہ پوٹن ایسے سیاستداں ہیں جو کم از کم جزوی طور پر، یہ چاہتے ہیں کہ امریکہ کی طاقت اور اثر و رسوخ کو محدود رکھا جائے اور جو یہ تاثر دینا چاہتے ہیں جیسے وہ امریکہ کی فرضی یا حقیقی وسعت پسندی، اثر و رسوخ اور طاقت کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں‘‘۔

سرگی گلیبو کا خیال ہے کہ پوٹن کے نظریات چاہے کچھ ہی کیوں نہ ہوں، امریکہ اور روس کے درمیان تعلقات مزید خراب نہیں ہوں گے۔

رابرٹ لیگولڈ کو توقع ہے کہ امریکہ اور روس کے درمیان تعلقات میں تسلسل برقرار رہے گا۔ ’’اس کا مطلب یہ نہیں کہ جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے، میدودیف کے مقابلے میں پوٹن کا اندازِ فکر زیادہ شک و شبہے اور تاریک خیالات سے پُر نہیں۔ لیکن بیشتر اہم امور میں، جیسے افغانستان کے مسئلے میں تعاون، نئے اسٹارٹ معاہدے کے تحت ہم نے جس قسم کا تعاون حاصل کیا یا نہ حاصل کیا، میزائل کے دفاعی نظام کے سلسلے میں ہم نے جو بھی پیش رفت حاصل کی ہے یہ نہ کی ہے، ان تمام معاملات میں، میرے خیال میں پوٹن کا اندازِ فکر میدودیف سے مختلف نہیں‘‘۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ایک بات یقینی ہے، گذشتہ برسوں میں امریکہ اور روس کے تعلقات میں اس حد تک پیش رفت ہو چکی ہے کہ سرد جنگ کے دور کے کشیدگیوں سے بھر پور دنوں تک واپسی اب نا ممکن ہو گئی ہے۔

XS
SM
MD
LG