رسائی کے لنکس

صدر پوٹن کےطرز حکمرانی پر ایک نظر

  • جیمز بروک

صدر پوٹن (فائل فوٹو)

صدر پوٹن (فائل فوٹو)

احتجاج کرنے والوں کے لیڈر ولادیمر ریزکوو کہتے ہیں کہ مسٹر پوٹن مطلق العنان لیڈر ہیں اور وہ اکیلے ہی حکومت کرتے ہیں۔

ولادیمر پوٹن کے خلاف سڑکوں پر زبردست احتجاج ہوئے لیکن ان کا کچھ نہیں بگڑا، وہ صدارتی انتخاب جیت گئے، اور مئی میں کریملن واپس آ گئے ۔

مئی میں جب ولادیمر پوٹن روس کے صدر کی حیثیت سے اپنے عہدے کی چھہ سالہ مدت شروع کرنے کریملن واپس پہنچے، تو ان کا استقبال پُر زور احتجاج سے کیا گیا۔

صدارت کے افتتاح کے روز، مسٹر پوٹن کا گاڑیوں کا جلوس ، یورپ کے سب سے بڑے شہر ماسکو کی سنسان سڑکوں سے تیزی سے گذر گیا۔ پولیس نے سڑکوں کو خالی کرا لیا تھا اور اختتامِ ہفتہ کی خصوصی چھٹی کے وجہ سے بھی ٹریفک نہیں تھا۔

احتجاج کرنے والوں کے لیڈر ولادیمر ریزکوو کہتے ہیں کہ مسٹر پوٹن مطلق العنان لیڈر ہیں اور وہ اکیلے ہی حکومت کرتے ہیں۔

’’اگر آپ پوٹن کے کریملن واپس آنے کے بعد، آخری چھہ مہینوں پر نظر ڈالیں تو پتہ چلے گا کہ وہ کہیں زیادہ قدامت پسند، آرتھوڈوکس چرچ کے حامی، مغرب مخالف اور مطلق العنان حاکم بن گئے ہیں۔‘‘

پسی رائیٹ گروپ کی خواتین موسیقاروں پر مسٹر پوٹن کے خلاف ماسکو کے سب سے بڑے کیتھڈرل میں احتجاج کرنے کے الزام میں مقدمہ چلا۔

گروپ کے ارکان کو دو سال قید کی سزا ملی تو آرتھو ڈوکس چرچ کی طرف سے مسٹر پوٹن کی حمایت اور پختہ ہو گئی۔

قوم پرست خوش تھے کہ کریملن نے یہاں امریکی پروگرام کم کر دیے ہیں، اور ماسکو میں کاسسیک کے گشت میں اضافہ ہو گیا ہے ۔

روس کی حکمراں پارٹی کو بیرونی ملکوں کی سرپرستی میں تخریبی سرگرمیوں کے بارے میں تشویش تھی ۔ لہٰذا اس نے بڑی عجلت میں جلسے جلوسوں اور انٹرنیٹ تک رسائی کو محدود کرنے کے لیے پارلیمینٹ میں قوانین پیش کیئے ۔ نئے قوانین میں سیاست میں سرگرم لوگوں اور ان کی سرگرمیوں پر جو گذشتہ سال تک قانونی تھیں، غیر ملکی ایجنٹ اور غداری کا لیبل لگا دیا گیا ۔

ڈیڑھ سو سال پہلے، زارانِ روس نے حکمرانی کے لیے‘آرتھوڈاکس، آٹوکریسی اینڈ نیشنل ازم’ کا فارمولا استعمال کیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا 2013 میں یہ فارمولا کام کرے گا؟
20 دسمبر کو اپنی سالانہ پریس کانفرنس میں صدرپوٹن نے کہا کہ روسیوں کی نزدیک اہم ترین چیز قانون کی پاسداری اور امن و امان ہے ۔

‘‘وہ کہہ رہے ہیں کہ 1990 کی دہائی میں انارکی نے جمہوریت اور منڈی کی معیشت کو بدنام کیا ۔ نظم و ضبط اور امن و مان اور جمہوریت میں کوئی تضاد نہیں ہے ۔’’

حزبِ اختلاف کے لیڈر ریزکوو اسے مختلف انداز سے دیکھتے ہیں۔

‘‘روس کے معاشرے کے ایک بڑے حصے پر اب بھی سوویت اور زار کے عہد کی چھاپ لگی ہوئی ہے ۔ یہ خیال بہت قدیم ہے کہ روس ایک عظیم ملک ہے جو دشمنوں سے گھرا ہوا ہے، اور ان میں سرِ فہرست امریکہ ہے ۔’’

لیکن دسمبر میں، صدر پوٹن نے بار بار اپنی اس مہم کا اعادہ کیا جو سال بھر سے جاری ہے کہ غیر ملکی طاقتیں ان کی حکومت کے خلاف تخریبی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ اور پھر روسی پارلیمینٹ نے ایسے قوانین پاس کیے جن کے تحت بہت سی غیر سرکاری روسی تنظیموں کو بیرونی ملکوں سے عطیات وصول کرنے کی ممانعت ہے ۔

صدر پوٹن نے کہا کہ روسی سیاست میں غیر ملکی اثر و رسوخ یا پیسہ نا قابلِ قبول ہے ۔
مسٹر پوٹن کہتے ہیں کہ ایک صدی کی جنگ اور انقلاب کے بعد، روسی ملک میں استحکام اور نظم و ضبط چاہتے ہیں۔ انھوں نے روسیوں سے اصلاحات کا وعدہ کیا، انقلاب کا نہیں۔

‘‘وہ کہہ رہے ہیں کہ سیاسی نظام میں تبدیلی آنا قدرتی اور ضروری بات ہے ۔ لیکن تباہی و بربادی کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔’’

اب صدرپوٹن کی کوشش ہے کہ احتجاج کرنے والوں کو ایک بنیادی مسئلے سے محروم کر دیں۔ وہ مسئلہ ہے کرپشن کے خلاف جنگ۔

صدرپوٹن کی حکمت عملی چاہے کچھ ہی کیوں نہ ہو، ان کا مقصد وہی ہے، یعنی اپنی صدارت کی مدت کے آخر تک، یعنی 2018 تک خود کو قائم رکھنا۔
XS
SM
MD
LG