رسائی کے لنکس

روسی وزیرِاعظم کے خلاف حزبِ اختلاف کی مہم تیز


روسی وزیرِاعظم کے خلاف حزبِ اختلاف کی مہم تیز

روسی وزیرِاعظم کے خلاف حزبِ اختلاف کی مہم تیز

پیوٹن پر سب سے سخت تنقید حریف امیدواران کے بجائے سوویت یونین کے سابق صدر میخائل گورباچووف کی جانب سے سامنے آئی ہے جنہوں نے جمعرات کو ایک تقریب سے خطاب میں ان پر کڑی نکتہ چینی کی

روس میں آئندہ ماہ ہونے والے صدارتی انتخاب سے قبل حزبِ اختلاف کے رہنمائوں اورسیاسی مخالفین نے اہم انتخابی امیدوار اور موجودہ وزیرِاعظم ولادی میر پیوٹن کے خلاف تنقیدی مہم تیز کردی ہے۔

جمعرات کو سرکاری ٹی وی پر نشر کیے گئے ایک انتخابی مباحثے میں 'لبرل ڈیموکریٹک پارٹی' کے صدارتی امیدوار ولادی میر زیرینووسکی اور کمیونسٹ پارٹی کے امیدوار جیناڈی زوئیگانوف نے 'یونائیٹڈ رشیا پارٹی' کے امیدوار اور موجودہ وزیرِاعظم کو آڑے ہاتھوں لیا۔

زیرینووسکی نے وزیرِاعظم پیوٹن کی انتخابی مباحثوں میں غیر حاضری کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پیوٹن شاید اس لیے ان مباحثوں میں نہیں آنا چاہتے کیوں کہ ان کے لیے گزشتہ 13 برسوں کی اپنی کارکردگی کا دفاع کرنا انتہائی مشکل ہوگا۔

لیکن وزیرِاعظم پیوٹن پر سب سے سخت تنقید حریف امیدواران کے بجائے سوویت یونین کے سابق صدر میخائل گورباچووف کی جانب سے سامنے آئی ہے جنہوں نے جمعرات کو ایک تقریب سے خطاب میں ان پر کڑی نکتہ چینی کی۔

ماسکو یونی ورسٹی میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر کا کہنا تھا کہ پیوٹن قیادت کی اہلیت کھوچکے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پیوٹن صدر منتخب ہونے میں کامیاب ہوگئے تو روس کا سیاسی بحران مزید سنگین ہوجائے گا۔

پیوٹن اس سے قبل 2001ء سے 2008ء تک مسلسل دو بار صدارت پہ فائز رہ چکے ہیں اور اب تیسری بار اس عہدے کے لیے میدان میں ہیں۔

مارچ میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں پیوٹن کی فتح کا امکان خاصا قوی ہے اور یہ امکان ظاہر کیا جاتا رہا ہے کہ انتخاب جیتنے کی صورت میں وہ چھ، چھ سال کی مزید دو مدتوں کے لیے 2024ء تک صدر کا عہدہ اپنے پاس رکھ سکتے ہیں۔

تاہم خود پیوٹن اور ان کے اتحادیوں کو بھی عوام میں بڑھتی ہوئی ناراضگی کا ادراک ہے۔

روسی حزبِ اختلاف کے مظاہروں کی تعداد اور شرکا میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے اور ایسے میں وزیرِاعظم پیوٹن کی انتخابی مہم نے 23 فروری کو اپنی ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے۔

منتظمین کا کہنا ہے کہ ماسکو کی گلیوں سے کریملن تک جانے والے اس جلوس میں دو لاکھ سے زائد افراد شریک ہوں گے جب کہ حزبِ اختلاف نے، جو حالیہ ہفتوں کے دوران میں بعض بہت بڑے بڑے مظاہرے کرچکی ہے، 26 فروری کو ایک اور جلوس نکالنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

XS
SM
MD
LG