رسائی کے لنکس

روس کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے: پیوٹن


پیوٹن کے الفاظ میں: ’حالات میں بہتری آئے گی، اِس لیے نہیں کہ ہم ہمیشہ رعایتیں دیتے رہیں گے، جھکتے رہیں گے، کسی کے سامنے بچوں کی سی طرح بات کرتے رہیں گے۔ حالات میں صرف تبھی بہتری آئے گی، جب ہم پختہ ہوں گے‘

صدر ولادیمیر پیوٹن نے جمعرات کو سلامتی سے وابستہ اعلیٰ اہل کاروں کو بتایا ہے کہ روس کو پختہ ہونا ہوگا، جب کہ اُنھوں نے مغربی ملکوں پر الزام لگایا کہ ملک کو ’عدم استحکام‘ کا شکار کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

ملکی سلامتی کے مرکزی ادارے، فیڈرل سکیورٹی سروس (ایف ایس بی) کے اعلیٰ حکام سے خطاب کرتے ہوئے، مسٹر پیوٹن نے اس امید کا اظہار کیا کہ بین الاقوامی صورت حال میں، جس میں روس کا قرب و جوار شامل ہے، بہتری آئے گی۔
بقول اُن کے، حالات میں بہتری آئے گی، اِس لیے نہیں کہ ہم ہمیشہ رعایتیں دیتے رہیں گے، جھکتے رہیں گے، کسی کے سامنے بچوں کی سی طرح بات کرتے رہیں گے‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’حالات میں صرف تبھی بہتری آئے گی، جب ہم پختہ ہوں گے‘۔

مغرب کے ساتھ اپنے ملک کے کشیدہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے، صدر پیوٹن نے کہا کہ روس کی ’آزادانہ پالیسی‘ اور ’یوکرین سمیت، مشکل میں گھرے لوگوں کی مدد کی کوشش کرنا‘ ایسا معاملہ ہے کہ جس سے ہمارے ساتھیوں اور ساجھے داروں کو، عام طور پر، صاف تکلیف سی ہوتی ہے۔
روس نے ایک برس قبل یوکرین کے جزیرہ نما کرائیمیا کو ضم کر دیا تھا اور ملک کے مشرقی حصے میں علحیدگی پسندوں کی مدد جاری رکھی ہے۔

اس کا جواب دیتے ہوئے، امریکہ اور یورپی یونین کے ملکوں نے روسی حکام اور کاروباری اداروں پر تعزیرات عائد کی ہیں۔

مسٹر پیوٹن نے مغربی انٹیلی جنس اداروں پر الزام لگایا کہ حکومت کی ساکھ خراب کرنے اور اندرونی حالات میں عدم استحکام کے ارادے سے وہ عام لوگوں، غیر سرکاری تنظیموں اور سیاسی عزائم رکھنے والے گروہوں کے حلقوں کا استعمال کر رہے ہیں۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ2016ء میں روس میں منعقد ہونے والے پارلیمانی انتخابات اور 2018ء کے صدارتی انتخابات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے، منصوبے تیار کیے جارہے ہیں۔

سنہ 2012میں روس کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے بعد، مسٹر پیوٹن نے ایک بل پر دستخط کرکے اسے قانون کا درجہ دیا ہے، جس کے تحت ایسی غیر سرکاری تنظیموں کو وزارتِ انصاف میں ’غیر ملکی ایجنٹ‘ کے طور پر درج کیا جائے گا، جن کے بارے میں یہ گمان ہو کہ وہ ’سیاسی حرفت‘ میں ملوث ہیں؛ اُنھیں ہر تین ماہ کے بعد رپورٹ جمع کرانی ہوگی۔


XS
SM
MD
LG