رسائی کے لنکس

جمعرات کو ایک ہیلی کاپٹر برف میں پھنسی کشتی کے قریب اُترنے میں کامیاب ہو گیا۔

انٹارکٹکا میں برف میں پھنسی روسی تحقیقاتی کشتی میں سوار 52 افراد کو جمعرات کے روز ہیلی کاپٹر کی مدد سے نکال لیا گیا ہے۔

کشتی میں موجود ایک سائنسدان کرس ٹرنی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ مسافروں کو با حفاظت برف ہٹانی والی آسٹریلیا کی ایک کشتی پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

ان مسافروں میں سیاح، صحافی اور سائنسدان بھی شامل ہیں اور آسٹریلوی کشتی کی مدد سے اُنھیں اب ساحل پر منتقل کیا جائے گا لیکن اطلاعات کے مطابق ان افراد کو قریبی بندرگاہ تک پہنچنے میں ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔

ایم وی اکیڈیمک شوکالسکیے نامی تحقیقاتی کشتی ایک ہفتہ سے زائد عرصے سے انٹارکٹکا میں پھنسی ہوئی ہے۔

روس کی تحقیقاتی کشتی پر سائنسدان، سیاحوں اور کشتی کا عملے سمیت کل 74 افراد سوار تھے، کشتی کے ڈوبنے کا کوئی خطرہ نہیں اور اس پر کئی ہفتوں کی رسد بھی موجود ہے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ عملے کے 22 افراد کشتی ہی میں رہ کر برف کے قدرتی طور پر پگھلنے کا انتظار کریں گے۔

اس سے قبل آسٹریلوی حکام کا کہنا تھا کہ سمندر کی برف ایک امداری بحری جہاز کو اس مقام تک جانے سے روک رہی ہے جہاں پر ہیلی کاپٹر کی مدد سے مسافروں کو عارضی طور پر منتقل کرنا تھا۔

شدید موسمی حالات کے باعث امدادی کارروائیوں کی کوششیں متاثر ہوتی آئی ہیں۔ چین، آسٹریلیا اور فرانس سے برف ہٹانے کے لیے لائی جانے والی مشینیں بھی روس کی پھنسی ہوئی تحقیقاتی کشتی تک نہیں پہنچ سکی ہیں۔

روسی کشتی 28 نومبر کو نیوزی لینڈ سے روانہ ہوئی تھی۔
XS
SM
MD
LG