رسائی کے لنکس

انہوں نے کہا کہ صرف بین الاقوامی ضابطوں کی پابندی اور قوموں کی خود مختاری کا احترام کرکے ہی ماضی کی جنگوں کی ہولناکیوں کو دہرانے سے بچا جاسکتا ہے

روس میں بدھ کوجنگِ عظیم دوم کی 67 ویں سال گرہ کے موقع پردارالحکومت ماسکو میں فوجی پریڈ کا انعقاد کیا گیا جس سے ملک کے نومنتخب صدرولادی میر پیوٹن نے خطاب کیا۔

تیسری بار منصبِ صدارت پر فائز ہونے والے پیوٹن نے اپنے نامزد کردہ وزیرِاعظم دمیتری میدویدیف کے ہمراہ فوجی تام جھام سے مرصع پریڈ میں حصہ لینے والے 14 ہزار سے زائد اہلکاروں سے سلامی لی اور پریڈ کا معائنہ کیا۔

بعدازاں، تقریب سے اپنے مختصر خطاب میں روسی صدر کا کہنا تھا کہ جنگِ عظیم دوم میں حاصل ہونے والے سبق موجودہ دور میں بھی کارگر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صرف بین الاقوامی ضابطوں کی پابندی اور قوموں کی خود مختاری کا احترام کرکے ہی ماضی کی جنگوں کی ہولناکیوں کو دہرانے سے بچا جاسکتا ہے۔

صدر پیوٹن کا کہنا تھا کہ اپنےعالمی مقام کا دفاع کرنا روس کا اخلاقی فریضہ ہے کیوں کہ اسی نے نازیوں کے مہلک وار سہے تھے اور دشمن کو تہس نہس کرکے پوری دنیا کو لوگوں کو آزادی سے ہم کنار کیا تھا۔

انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ نیٹو کو روس کو ٹھوس یقین دہانیاں کرانا ہوں گی کہ وہ یورپ میں جو میزائل دفاعی نظام نصب کرنا چاہتا ہے اس کا نشانہ روس نہیں بنے گا۔

یاد رہے کہ پیوٹن نے دوماہ قبل ہونے والے صدارتی انتخاب میں کامیابی کے بعد رواں ہفتے ہی اپنے عہدے کا حلف اٹھایا ہے جس کے بعد یہ ان کا پہلا عوامی خطاب تھا۔

پیوٹن اس سے قبل سنہ2000 سےسنہ 2008 تک مسلسل دو بار روس کے صدر رہ چکے ہیں۔ مسلسل تیسری مدت کے لیے انتخاب کی راہ میں حائل آئینی پابندی کے پیشِ نظر انہوں نے 2008ء میں عہدہ صدارت اپنے قریبی ساتھی دمیتری میدویدف کو سونپ کر خود وزارتِ عظمیٰ سنبھال لی تھی۔

چار برس تک وزیرِ اعظم رہنے کے بعد پیوٹن نے رواں برس 4 مارچ کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں حصہ لیا تھا اور بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی۔

XS
SM
MD
LG