رسائی کے لنکس

سلامتی سے متعلق ایک اعلیٰ امریکی مشیر نے اتوار کے روز اس امید کا اظہار کیا کہ آئندہ دِنوں کے دوران بھی روس کی طرف سے یورپی تعزیرات کو مزید سخت کیا جائے گا

ایک سینئر برطانوی اہل کار نے مطالبہ کیا ہے کہ یوکرین بحران میں روس کےکردار کی مذمت کے طور پر، 2018ء کے عالمی کپ کی میزبانی روس سے واپس لی جائے، ایسے میں جب بحر اوقیانوس کے دونوں اطراف سے اِس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ روس کے خلاف تعزیرات کو مزید سخت کیا جائے۔

معاون وزیر اعظم، نِک کلیگ نے سخت پابندیوں اور روس میں کھیلوں کے مقابلوں کے انعقاد کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے، اتوار کے روز ’دِی سنڈے ٹائمز‘ کو بتایا کہ، بقول اُن کے، اس کا سبب ’روس کی یوکرین سرحد پر روس کی وحشیانہ جارحیت‘ ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے بارے میں کلیگ نے کہا کہ، ہمیں سخت پابندیاں عائد کرنی ہوں گی۔ ساتھ ہی، ہمیں اس بات کو بالکل واضح کرنا ہوگا کہ اگر وہ عالمی امور کے بنیادی اصولوں کی پاسداری کے لیے تیار نہیں، تو وہ دنیا کے امور کے ضمن میں، میز پر نمایاں مقام حاصل کرنے کا حقدار بھی نہیں ہے۔

جمعے کے دِن، فٹبال کے بین الاقوامی ادارے (فیفا) نے کہا ہےکہ مقابوں کی میزبانی روس کے پاس ہی رہے گی۔

جرمن قانون سازوں نے بھی ملائیشیا ایرلائنز کی پرواز 17 کو اِس ماہ کے اوائل میں یوکرین میں مار گرانے میں روس کے مبینہ کردار پر، کھیلوں کے ان بین الاقوامی مقابلوں کی میزبانی روس سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ مسافر طیارے کے حادثے میں تمام 298 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

سلامتی سے متعلق ایک اعلیٰ امریکی مشیر نے اتوار کے روز اس امید کا اظہار کیا کہ آئندہ دِنوں کے دوران بھی روس کی طرف سے یورپی تعزیرات کو مزید سخت کیا جائے گا۔

قومی سلامتی کے معاون مشیر، بین رہوڈز نے سی این این کو بتایا کہ گذشتہ ہفتے صدر براک اوباما کے یورپی رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات میں توانائی، اسلحہ اور مالی شعبہ جات میں مزید پابندیاں لاگو کرنا بھی زیر غور رہا۔

XS
SM
MD
LG