رسائی کے لنکس

شام-اسرائیل سرحد پر فوجی تعینات کرنے کی روسی پیش کش


روس نے یہ پیش کش آسٹریا کی جانب سے 'جولان ہائیٹس' پر تعینات اقوامِ متحدہ کی امن فوج میں شامل اپنے فوجی اہلکار واپس بلانے کے اعلان کے بعد کی ہے۔

روس نے کہا ہے کہ وہ شام اور اسرائیل کے درمیان متنازع علاقے 'جولان ہائیٹس' پر جنگ بندی کی نگرانی کے لیے اپنے فوجی تعینات کرنے پر آمادہ ہے۔

روس نے یہ پیش کش آسٹریا کی جانب سے 'جولان ہائیٹس' پر تعینات اقوامِ متحدہ کی امن فوج میں شامل اپنے فوجی اہلکار واپس بلانے کے اعلان کے بعد کی ہے۔

خیال رہے کہ 'جولان ہائیٹس' کے سرحدی علاقے میں اسرائیل اور شام کے درمیان گزشتہ چار دہائیوں سے موثر جنگ بندی کی نگرانی کے لیے اقوامِ متحدہ کے ایک ہزار سے زائد بین الاقوامی امن رضاکار تعینات ہیں۔

حالیہ دنوں میں شامی فوجیوں اور باغیوں کے درمیان سرحدی علاقے میں شدید لڑائی کے بعد آسٹریا نے اعلان کیا تھا کہ وہ امن فوج میں شامل اپنے 380 اہلکاروں کو وطن واپس بلارہا ہے۔

جمعے کو ماسکو میں فوجی افسران کے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے کہا کہ ان کا ملک 'جولان ہائیٹس' سے آسٹریا کے فوجیوں کی واپسی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خلا کو پر کرنے کے لیے تیار ہے۔

ٹیلی ویژن پر نشر کیے جانے والے اپنے بیان میں صدر پیوٹن نے واضح کیا کہ علاقائی طاقتوں کی رضامندی اور اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی جانب سے اس ضمن میں ماسکو حکومت سے باضابطہ درخواست کرنے کی صورت میں ہی روسی فوجیوں کی علاقے میں تعیناتی کا فیصلہ کیا جائے گا۔

'جولان ہائیٹس' سے آسٹرین فوجوں کے انخلا کے بعد کی صورتِ حال پر غور کےلیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک اجلاس بھی جمعے کو ہورہا ہے۔

دو روز قبل شامی صدر بشار الاسد کے خلاف لڑنے والے باغیوں نے 'جولان ہائیٹس' کے مقام پر اسرائیل اور شام کے درمیان سرحدی کراسنگ پر قبضہ کرلیا تھا جس کے باعث وہاں تعینات اقوامِ متحدہ کے امن رضاکاروں کو محفوظ مقامات پر پناہ لینا پڑی تھی۔

بعد ازاں لڑائی کے بعد شامی فوجی دستوں نے باغیوں کو سرحد سے دور دھکیل کر کراسنگ کا قبضہ دوبارہ حاصل کرلیا تھا۔

خیال رہے کہ روس شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کا اہم اتحادی ہے جو بین الاقوامی اداروں اور فورمز پر شامی حکومت کی بھرپور حمایت کرتا رہا ہے۔
XS
SM
MD
LG