رسائی کے لنکس

روس عرصہ دراز سے شام کے حکمران اسد خاندان کا اہم اتحادی ہے اور شامی افواج کو اسلحہ فراہم کرتا آیا ہے۔

روس کے وزیرِخارجہ سرجئی لاوروف نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کی کبھی بھی حمایت نہیں کی۔

پیر کو ماسکو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مسٹر لاوروف نے واضح الفاظ میں کہا کہ روس شام میں جاری بحران کے کسی ایک فریق کو دوسرے پر ترجیح نہیں دیتا۔

انہوں نے اپنی گفتگو میں ان ممالک کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جو ان کے بقول شام کے معاملے پر روس کی پالیسی کو غلط رنگ دے رہے ہیں۔

روسی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ان کے ملک کو بشار الاسد حکومت نے نہ کبھی متاثر کیا اور نہ ہی روس نے کبھی اس کی حمایت کی۔ ان کے بقول جنیوا میں طے پانے والے معاہدے کے تحت شام میں ایک عبوری انتظامیہ کے قیام کے لیے روسی کوششیں اس بات کا اظہار ہیں کہ روس شام کی صورتِ حال میں بہتری چاہتا ہے۔

سرجئی لاوروف نے مزید کہا کہ شامی بحران کے حل کے لیے روس کی کوششوں کا مقصد شامی عوام کو اپنے مستقبل، ریاست اور اپنی قیادت کا فیصلہ خود کرنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔

روسی وزیرِ خارجہ نے یہ بیان روس کے وزیرِ اعظم دمیتری میدویدیف کے اس اہم بیان کے ایک روز بعد دیا ہے جس میں انہوں نے شامی حزبِ اختلاف کے مطالبے پر ملک میں جمہوری اصلاحات متعارف کرانے میں تاخیر کو صدر اسد کی "تباہ کن" غلطی قرار دیا تھا۔

امریکی ٹی وی چینل 'سی این این' پر اتوار کو نشر کیے جانے والے ایک انٹرویو میں روسی صدر کا کہنا تھا کہ صدر اسد کو معتدل خیالات رکھنے والے اپنے مخالفین سے رابطے کرنے میں جلدی کرنی چاہیے تھی۔

روسی صدر نے کہا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ صدر اسد کے اقتدار میں رہنے کا امکان ہر گزرتے دن کے ساتھ معدوم ہوتا چلا جارہا ہے۔

شام کے متعلق روس کے حالیہ موقف کو روسی خارجہ پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی اور شامی حکومت کے لیے ایک سفارتی دھچکا قرار دیا جارہا ہے۔

خیال رہے کہ روس عرصہ دراز سے شام کے حکمران اسد خاندان کا اہم اتحادی ہے اور شامی افواج کو اسلحہ فراہم کرتا آیا ہے۔

شام میں گزشتہ 22 ماہ سے جاری سیاسی بحران اور خانہ جنگی کے دوران بھی ماسکو حکومت اسد انتظامیہ کی پشت پناہی کرتی آئی تھی اور روس نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں شامی حکومت کی مذمت میں پیش کی جانے والی قراردادیں بھی ویٹو کردی تھی۔
XS
SM
MD
LG