رسائی کے لنکس

روس نے طیاروں کے تحفظ کے لیے میزائل شام بھجوا دیے


روس کے لڑاکا طیارے شام میں کارروائیاں کر رہے ہیں

روس کے لڑاکا طیارے شام میں کارروائیاں کر رہے ہیں

ادھر اعلیٰ امریکی سفارتکاروں نے کہا ہے کہ شام میں روس کی 85 سے 90 فیصد فضائی کارروائیوں کا ہدف شامی باغی ہیں نہ کہ داعش۔

روس کی فضائیہ کے سربراہ نے جمعرات کو بتایا کہ شام میں روسی طیاروں کی حفاظت کے لیے طیارہ شکن میزائل بھیجے گئے ہیں۔

کرنل جنرل وکٹر بونڈیف نے اخبار "کومسومولسکایا پراودا" کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ روسی لڑاکا طیاروں کو وہاں (شام میں) حملوں یا اغوا کیے جانے کا خطرہ ہے۔

روس نے گزشتہ ماہ شام میں اپنی فضائی کارروائیاں شروع کی تھیں اور اسے خطے میں موجود دیگر طاقتوں خاص طور پر امریکہ کی طرف سے نگرانی کا سامنا ہے۔

امریکہ نے گزشتہ سال اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر شام اور عراق میں شدت پسند گروپ داعش کے خلاف فضائی کارروائیاں کی تھیں۔

ادھر اعلیٰ امریکی سفارتکاروں نے کہا ہے کہ شام میں روس کی 85 سے 90 فیصد فضائی کارروائیوں کا ہدف شامی باغی ہیں نہ کہ داعش۔

محکمہ خارجہ کی دو معاون سیکرٹریز این پیٹرسن اور وکٹوریہ نلیڈ نے یہ جائزہ ایوان نمائندگان کی کمیٹی برائے خارجہ امور کے سامنے اپنے بیانات میں پیش کیا۔

دریں اثناء امریکہ محکمہ دفاع کے ترجمان کرنل اسٹیو وارنر نے صحافیوں کو بتایا کہ شام میں کم ازکم دس فیصد روسی فضائی کارروائیاں داعش کے خلاف ہیں۔

"اور ہاں ویسے میں آپ کو بتاؤں اکثر فضائی کارروائیوں میں کسی خاص ہدف کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔"

روسی سفارتکار اور عسکری حکام کا اصرار ہے کہ ان کی فضائی مہم داعش کے انتہا پسندوں کے خلاف ہے۔ لیکن ان دعوؤں کو امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک درست قرار نہیں دیتے اور ان کا ماننا ہے کہ روس شامی صدر بشارالاسد کی مخالف فورسز کو نشانہ بنا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG