رسائی کے لنکس

روس چین کے سلک روٹ منصوبے میں شامل ہونا چاہتا ہے


بیجنگ میں نیشنل کنونشن سینٹر کے باہر کارکن سلک روڈ کے گولڈن بریج پر کام کررہیں۔ کنونشن سینٹر میں اتوار سے کثیر ملکی کانفرنس شروع ہو رہی ہے۔

چین پچھلے چند برسوں کے دوران اپنے اس منصوبے پر 300 ارب ڈالر سے زیادہ صرف کر چکا ہے اور چین کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ بیجنگ میں کثیرملکی کانفرنس کے دوران 50 سے زیادہ معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گے۔

روس کے صدر ولادی میر پوٹن چین جارہے ہیں جہاں وہ بیجنگ میں ہونے والی کانفرنس ' ایک راہداری، ایک شاہراہ' میں جسے او بی او آر بھی کہا جاتا ہے، شرکت کریں گے۔

چین کے اس عظیم منصوبے کا مقصد دور قدیم کے زمینی اور سمندری تجارتی راستوں کے انفراسٹرکچر پر سرمایہ کاری کرکے ' سلک روٹ' کی ازسرنو بحالی اور توسیع کے ذریعے ایشیا، افریقہ اور یورپ کو آپس میں جوڑنا ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب کہ چین اپنے اس تصور کو حقیقت میں ڈھالنے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کررہا ہے، اس منصوبے کی کچھ تفصیلات سامنے آرہی ہیں۔

کارنیگی ماسکو سینٹر کے تجزیہ کار پیٹر ٹوپیچ کانوف کہتے ہیں کہ روسی معیشت کوغیرملکی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے اور اسے توقع ہے کہ اوبی او آر کے تحت اسے کچھ فنڈز مل سکتے ہیں۔

ان کا کہناتھا کہ روس یورو ایشیا اکنامک یونین کے زوال پذیر منصوبے میں نئی جان ڈالنا چاہتا ہے اور تیسرا یہ کہ وہ شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کے اقتصادی ایجنڈے کو چین کے اس منصوبے کے ذریعے تقویت دینا چاہتا ہے۔اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ روس یورپی ملکوں کوروس اور چین کے اقتصادی تعاون کے ذریعے اپنی جانب متوجہ کرنا چاہتا ہے۔

چین پچھلے چند برسوں کے دوران اپنے اس منصوبے پر 300 ارب ڈالر سے زیادہ صرف کر چکا ہے اور چین کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ بیجنگ میں کثیرملکی کانفرنس کے دوران 50 سے زیادہ معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گے۔

مغربی ملکوں کی جانب سے روس کی یوکرین میں فوجی مداخلت کے خلاف پابندیوں کےتناظر میں کچھ روسی عہدے داروں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ماسکو اپنے سیاسی اور اقتصادی مستقبل کے لیے مشرق کی جانب متوجہ ہوگا۔

مغربی ملکوں کے اقتصادی دباؤ سے نکلنے کے لیے چین نے روس کی سرکاری کمپنیوں کو بھاری قرضےدیے ہیں۔ چین اس وقت روس کا سب سے اہم تجارتی شراکت دار ہے اور اس کے حصے میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روس اور چین کے تعلقات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔کارنیگی سینٹر کا کہنا ہے کہ روس اور چین دونوں ہی اپنی دوستی کو اہمیت دیتے ہیں ۔

چین کے نئے سلک روٹ کے تصور نے امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ کو بھی اپنی جانب متوجہ کیا ہےاور وہ تجارتی معاہدوں کے امکانات پر غور کررہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG