رسائی کے لنکس

روس میں سیلی کان ویلی طرز کے منصوبے کا آغاز

  • انیا اردیویا

روس کی سیلی کان ویلی سکولکوو

روس کی سیلی کان ویلی سکولکوو

روس کے ماضی کے راہنماؤں ، پیٹر اعظم، جوزف اسٹالن کی طرح موجودہ صدر دیمتری مدویدف بھی اپنے ملک کو ترقی دینے اور جدید ٹکنالوجیز پر دسترس حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ ان منصوبوں کا ایک حصہ کریملن میں سلی کان ویلی کی طرزپر ایک مرکز قائم کرنا ہے ، جسے ، Skolkovo ، نام دیا گیا ہے۔

روسی صدر دیمتری مدویدف نے اس موسم گرما کے شروع میں امریکہ کے ایک دورے کا آغاز وائٹ ہاؤس سے نہیں بلکہ سلی کان ویلی سے کیا تھا ، جہاں انہوں نے گورنر آرنلڈ شوائرزنیگر اورٹکنالوجی سے متعلق دنیا کی ممتاز ترین کمپنیوں کے عہدے داروں سےملاقاتیں کیں ۔ان ملاقاتوں کا اصل مقصد تھا روس کی اپنی سیلی کان ویلی کا قیام۔

اپنے مجوزہ منصوبے کے بارے میں صدر دیمتری مدویدف کہہ چکے ہیں کہ یہ مرکز ہمارے ملک میں ایجاد و اختراعات کے ایک نظام کی تشکیل کے لیے ایک انجن کا کام کرے گا۔ یہ ایک مختلف نوعیت کاکا م ہے جو اس سے پہلے ہم نے نہیں کیا تھا ۔ جسے اب ہمیں شروع کرنا ہے۔

سر دست اس مرکز کے لیے ماسکو سے بیس کلومیڑر کے فاصلے پر ، 370 ہیکٹر کا رقبہ حاصل کرلیا گیا ہے۔ اگلے تین سال میں ، حکومت اس جگہ پانچ ارب ڈالر کی لاگت سے سائنس اور ایجاد و اختراعات کا ایک مرکز تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جو توانائی ، انفرمیش ٹکنالوجی ، کمیونیکیشن، بائیو میڈیکل ریسرچ اور جوہری ٹکنالوجی پر مرکوز ہو گا ۔

اس پراجیکٹ میں سائمن ، مائیکروسافٹ، گوگل ،نوکیا اور انٹل پہلے ہی اپنی دلچسپی ظاہر کر چکے ہیں ۔سسکو سسٹم اس منصوبے کے لیے کیلی فورنیامیں مسٹر مدویدف کے دورے کے دوران ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کر چکا ہے ۔ تیل اور المونیم کے شعبے کی ارب پتی شخصیت وکٹر وکسل برگ کو اس مرکز کا جنرل منیجر مقرر کیا جا چکا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں امید ہے کہ روسی کمپنیاں بھی اس پراجیکٹ میں شامل ہو جائیں گی ۔

ان کا کہنا ہے کہ شراکت داروں کی حیثیت دس سال تک بر قرار رہے گی ۔انہیں ٹیکس پر کچھ چھوٹ ہوگی ، کچھ صورتوں میں ٹیکس بالکل ہی نہیں ہو گا ۔۔۔ زمین یا املاک پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا ، پینشن کی ادائیگیوں پر ٹیکس کی چھوٹ ہوگی ۔ یہ تمام چیزیں صرف نئی کمپنیوں کے لیے ہی نہیں بلکہ پہلے سے قائم سائنسی تحقیقی مراکز کے لیے بھی باعث کشش ہوں گی جو ممکن ہے اپنی سرگرمیاں اس مرکز میں میں منتقل کرنے یا منظم کرنے کا فیصلہ کر لیں ۔

گزشتہ دس برس میں ، روس کے زیادہ تر محصولات تیل اور گیس کی فروخت سے حاصل ہوئے ہیں۔ماسکو میں Carnegieکارنیگی انڈاؤمانٹ فار انٹرنیشنل پیس کے نکولی پیٹروف کہتے ہیں کہ ماسکو کو یہ توقع ہے کہ مجوزہ مرکز صورتحال میں تبدیلی لانے میں مدد دے گا۔

وہ کہتے ہیں کہ اس پراجیکٹ کا عمومی تصور اس حقیقت سے منسلک ہے کہ قدرتی وسائل پر مبنی روس کی اقتصادی ترقی کا انداز اب تقریباً ختم ہو چکا ہے اور اب اس ملک کو ترقی کے لیے کسی مختلف قسم کے ماڈل کی شدید ضرورت ہے ۔

پراجیکٹ کے حامیوں کو یہ توقع بھی ہے کہ نیا مرکز ان ہزاروں باصلاحیت روسیوں ، ٹکنالوجی کے ماہرین، سائنسدانوں اور کاروباری افراد کو ملک میں واپس لانے میں مدد گار ثابت ہو گا جو سویت یونین کے خاتمے کے بعد سے روس چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ یہ بالکل ویسا ہی معاملہ ہے جیسا کہ زراعت میں ہوتاہے ۔۔۔ آپ پودا لگانے کی کوشش کر سکتے ہیں لیکن آپ کوایک مکمل ساز گار ماحول کی ضرورت ہوتی ہے ، ورنہ وہ ناتواں پودا پروان نہیں چڑھتا۔ ممکن ہے کہ اس مرکز کے قیام سے ان روسیوں کو اپنی جانب راغت کرنے میں مدد مل سکے جو ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ اانہیں اسی طرح کی مراعات پیش کرنا ہوں گی جو انہیں اب وہاں حاصل ہیں۔

روس میں رائے عامہ کے ایک حالیہ جائزے میں کہا گیا ہے کہ بیشتر روسیوں کا خیال ہے کہ ان کے ملک کو جدید بنانے کے منصوبوں کو ٹکنالوجی کے مراکز کی تعمیر سے زیادہ بد عنوانی اور بیوروکریسی سے چھٹکارہ دلوانے پر مرکوز ہونا چاہیے ۔ لیکن کریملن2011 ء میں کسی وقت مجوزہ مرکز کی تعمیر شروع کرنا چاہتا ہے اور اسے توقع ہے کہ تین سال کے اندر اندر روس کا ٹکنالوجی کا نیا مرکز اپنے کام کا آغاز کردے گا۔

XS
SM
MD
LG