رسائی کے لنکس

روس سے طیارہ شکن میزائلوں کی کھیپ مل گئی: شامی حکومت


صدر بشار الاسد (فائل فوٹو)

صدر بشار الاسد (فائل فوٹو)

اس بات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے اور نہ ہی روس نے اس پر کوئی بیان دیا ہے۔ لیکن اگر یہ خبر درست ہے تو جدید ترین ایس۔300 طیارہ شکن میزائلوں کی یہ کھیپ شام کے فضائی دفاعی نظام میں ایک اہم پیش رفت ہو گی۔

لبنان میں حزب اللہ سے وابستہ ذرائع ابلاغ کے مطابق شام کے صدر بشار الاسد نے کہا ہے کہ روس کی طرف سے جدید فضائی دفاعی نظام کی ایک کھیپ ان کے ملک کو موصول ہوئی ہے۔

مسٹر اسد کا بیان جمعرات کو ’المینار‘ پر جاری ہوا جو کہ لبنان میں اسد کے حامی شدت پسند گروپ حزب اللہ کی ملکیت ہے۔

اس بات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے اور نہ ہی روس نے اس پر کوئی بیان دیا ہے۔ لیکن اگر یہ خبر درست ہے تو جدید ترین ایس۔300 طیارہ شکن میزائلوں کی یہ کھیپ شام کے فضائی دفاعی نظام میں ایک اہم پیش رفت ہو گی۔

شام کے اتحادی روس نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ طویل عرصے سے تعطل کے شکار میزائلوں کی فروخت کے معاملے پر پیش رفت کرے گا جو کہ اس کے بقول بیرونی فورسز کے حملے سے بچنے کے لیے معاون ثابت ہوں گے۔

اس بارے میں اسرائیل کی طرف سے بھی تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے جس کے وزیر دفاع گزشتہ ہفتے یہ خیال ظاہر کر چکے ہیں ان کا ملک ایس۔300 میزائل کی کھیپ کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

اسرائیل اس خدشے کا اظہار کر چکا ہے کہ زمین سے فضا تک مار کرنے والے اس میزائل کی پہنچ میں اس کی فضائی حدود بھی آسکتی ہیں۔ یہ شام میں حزب اللہ کو اسلحہ کی فراہمی روکنے کے لیے کی جانے والی اس کی فضائی کارروائیوں کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شام میں اضافی اسلحے کی آمد سے اس ملک میں امن کے لیے امریکہ اور روس کی مجوزہ بین الاقوامی کانفرنس منعقد کرنے کی کوششیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔
XS
SM
MD
LG