رسائی کے لنکس

اسد کی حمایت کا یہ مطلب نہیں کہ اُنھیں اقتدار میں رہنا چاہیے: روس


فائل

فائل

تاہم، روسی وزارت خارجہ کی ایک خاتون ترجمان نے حکومت کی تبدیلی کی سوچ کے خلاف ٹھوس دلیل دیتے ہوئے کہا کہ شام کے بحران کا یہ حل نہیں جو مخالف گروپ پیش کرتے ہیں، جو تین سے زائد برسوں سے اسد حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں

روس شامی صدر بشارالاسد کے مضبوط ترین حامیوں میں سے ہے، لیکن ایک روسی خاتون ترجمان کا کہنا ہے کہ اصولی طور پر روس کی پالیسی کا انحصار اس بات پر ہرگز نہیں کہ اسد کو اقتدار میں رہنا چاہیئے۔

شام کے بارے میں روسی پالیسی پر گفتگو کرتے ہوئے، وزراتِ خارجہ کی خاتون ترجمان، ماریا زخاروہ نے منگل کے روز ریڈیو ’ایکو موسکوی‘ کو بتایا کہ، ’ہم نے یہ کبھی نہیں کہا کہ اسد کا اقتدار میں رہنا اصولی معاملہ ہے‘۔

تاہم، اُنھوں نےحکومت کی تبدیلی کی سوچ کے خلاف ٹھوس دلیل دیتے ہوئے کہا کہ شام کے بحران کا یہ حل نہیں جو مخالف گروپ پیش کرتے ہیں، جو تین سے زائد برسوں سے اسد حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

زخاروہ نے کہا کہ اِس وقت شام میں حکومت کی تبدیلی ’خطے کے لیے تباہ کُن‘ بن سکتی ہے، جس سے خانہ جنگی کے اثرات ابتر ہوجائیں گے، جہاں سنہ 2011 سے اب تک 200000 افراد ہلاک ہوچکے ہیں؛ جب کہ لاکھوں افراد گھر بار چھوڑ کر ہجرت پر مجبور ہوچکے ہیں۔

’تاس‘ خبر رساں ادارے نے کہا ہے کہ وزارتِ خارجہ کی خاتون ترجمان نے متنبہ کیا کہ شام ’عالمی تباہی‘ کا سبب بن سکتا ہے۔

اُنھوں نے ریڈیو ’ایکو ماسکوی‘ (ایکو آف ماسکو) کو بتایا کہ، ’صدر کی قسمت کا فیصلہ شامی عوام کے ہاتھ میں ہے‘۔

امریکہ اور اُس کے اتحادیوں کا کہنا ہے کہ ’صدر اسد شام کے کسی طویل مدتی سیاسی حل کا حصہ نہیں۔ تاہم، پچھلے دو ماہ کے دوران، روس نے اسد کے لیے اپنی حمایت تیز کردی ہے، اور اب اُس کے لڑاکا طیارے شام میں موجود ہیں، جن کی مدد سے فضائی کارروائیاں جاری ہیں‘۔

روسی سفارت کار اور فوجی اہل کار یہ توجیہ پیش کرتے ہیں کہ فضائی حملوں کا مقصد داعش کے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرنا ہے۔ ’تاہم، امریکہ اور دیگر ممالک اس دلیل کی مخالفت کرتے ہیں، جن کا کہنا ہے کہ روسی اکثر و بیشتر شام کے حزب مخالف کے لڑاکوں پر بم حملے کرتے ہیں، جن کا کسی طور پر بھی داعش کے اسلامی انتہاپسندوں سے دور دور تک تعلق نہیں ہے‘۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ روسی لڑاکا طیارے زیادہ تر معتدل باغیوں کو ہدف بنا رہے ہیں، جو حکومت کی حامی افواج سے نبردآزما ہیں، اور کبھی کبھار ہی دولت اسلامیہ کو نشانہ بناتے ہیں۔

روس اس بات کی تردید کرتا ہے کہ اُس کی جانب سے شام میں کی جانے والی فضائی کارروائیاں اندھا دھند طور پر کی جا رہی ہیں۔

XS
SM
MD
LG