رسائی کے لنکس

امریکہ روس تعلقات، کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا: روس


فائل

پیوٹن کے ترجمان، دمتری پیسکوف نے جمعرات کے دِن بتایا کہ ماسکو میں ہونے والی اِن ملاقاتوں کا انداز ’’خاصا تعمیری‘‘ تھا، جس سے اِس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ دنیا کی دو سب سے بڑی عالمی طاقتوں کو ’’معاملات کے حل کی تلاش کے لیے مکالمہ جاری رکھنا چاہیئے‘‘

روس کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کی امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹِلرسن کے ساتھ ہونے والے متنازع مذاکرات کے چند ہی گھنٹوں بعد یہ کہنا ’’قبل از وقت ہوگا‘‘ آیا امریکہ روس تعلقات میں بہتری آئے گی۔

پیوٹن کے ترجمان، دمتری پیسکوف نے جمعرات کے دِن بتایا کہ ماسکو میں ہونے والی اِن ملاقاتوں کا انداز ’’خاصا تعمیری‘‘ تھا، جس سے اِس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ دنیا کی دو سب سے بڑی عالمی طاقتوں کو ’’معاملات کے حل کی تلاش کے لیے مکالمہ جاری رکھنا چاہیئے‘‘۔

تاہم، اُنھوں نے کہا کہ پیوٹن نے اس ملاقات کے ذریعے امریکہ کو بتا دیا ہے کہ تعلقات میں موجودہ ’’تعطل‘‘ کیونکر پیدا ہوا، جس کا زیادہ تر سبب گذشتہ ہفتے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا حملہ اور جوابی کارروائی کے طور پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے احکامات پر میزائل حملہ ہے۔

ٹرمپ نے بدھ کے روز اس بات کا اعلان کیا کہ امریکہ کے روس کے ساتھ تعلقات ’’اب تک کی نچلی ترین سطح پر ہیں‘‘، جس جذبے کا اظہار ٹِلرسن نے پیوٹن اور لاوروف کے ساتھ ملاقات کے بعد اخباری کانفرنس کے دوران کیا۔ ٹِلرسن نے دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کی عدم موجودگی کی طرف اشارہ کیا۔

جمعرات کے روز ٹرمپ نے زیادہ مثبت انداز اپناتے ہوئے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر پیغام جاری کیا کہ ’’امریکہ اور روس کے مابین معاملات بہتر ہوجائیں گے۔ درست وقت پر سبھی کے ہوش ٹھکانے آجائیں گے، اور پھر دیرپہ امن قائم ہوگا!‘‘۔

پیوٹن نے بدھ کو روس کی سرکاری تحویل میں کام کرنے والے ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ جب سے تین ماہ قبل ٹرمپ نے عہدہ سنبھالا ہے، اِس سال دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات خراب ہوئے ہیں۔

ماسکو اور امریکہ کے درمیان فوری نوعیت کا متنازعہ نکتہ یہ رہا ہے آیا 4 اپریل کو شام میں ہونے والے کیمیائی حملہ، جس میں 85 سے زائد افراد ہلاک ہوئے اور سینکڑوں بیمار ہوئے، کیسے ہوا۔ ٹِلرسن نے کہا ہے کہ امریکہ کو ’’پورا یقین ہے‘‘ کہ اس کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد شام کی سرکاری افواج کی نگرانی میں ہوا۔


لاوروف نے اِس روسی دعوے کی وضاحت کیے بغیر کہا کہ سارن گیس کا یہ حملہ یا تو شامی باغیوں کی اشتعال انگیزی کا نتیجہ ہے یا پھر اُس وقت پیش آیا جب شام کے لڑاکا طیاروں نے باغیوں کے زیر قبضہ بارود کے ذخیرے کو نشانہ بنایا جہاں سارن گیس موجود تھی۔

تفصیلی اور ایماندارانہ تفتیش کا مطالبہ

ٹِلرسن کے ہمراہ اخباری کانفرنس کرتے ہوئے، لاوروف نے کہا کہ ’’ہم اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ ہمیں ایک تفصیلی تفتیش کی ضرورت ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس معاملے کی ایماندارانہ چھان بین کی جائے‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG