رسائی کے لنکس

روس میں حکام نے دو خودکش بم دھماکوں کے بعد وولگوگراد اور دیگر شہروں میں سکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔

روس میں عہدیداروں نے کہا ہے کہ ملک کے جنوبی شہر وولگوگراد میں اتوار اور پیر کو ہونے والے خودکش بم حملوں میں زخمی ہونے والے درجنوں افراد میں سے مزید تین افراد جانبر نا ہو سکے جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 34 ہو گئی ہے۔

تاحال کسی نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ تاہم روس میں حکام نے دو خودکش بم دھماکوں کے بعد وولگوگراد اور دیگر شہروں میں سکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔

پیر کو ایک بس میں بم دھماکے سے 16 افراد ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہو گئے تھے جب کہ روس کے شہر وولگوگراد میں اتوار کی صبح شہر کے ایک مرکزی ریلوے اسٹیشن پر خودکش بم حملے میں 18 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ان حملوں کے بعد صدر ولادیمر پوٹن نے ملک کی انسداد دہشت گردی کے ادارے کو ملک بھر میں سکیورٹی بڑھانے کا حکم دیا تھا۔


امریکہ کی قومی سلامتی کونسل کی ترجمان چیتلن ہائیڈن نے روس میں ہونے والے ان دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ روس کی عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔

ہائیڈن کے بیان میں کہا گیا کہ امریکہ نے روس کی حکومت کو آئندہ چند ہفتوں میں ہونے والے ’سرمائی اولمپیکس‘ کی سیکورٹی کی تیاریوں میں مکمل تعاون کی پیشکش کی ہے۔

یہ حملے ایسے وقت ہوئے جب وولگوگراد سے جنوب مغرب میں 650 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع سوچی نامی شہر میں آئندہ چند ہفتوں میں ’سرمائی اولمپیکس‘ شروع ہونے ہیں۔

ملک میں اسلامی انتہا پسند جنگجوؤں نے کھیلوں کے ان مقابلوں کے انعقاد میں رخنہ ڈالنے کی دھمکی دے رکھی ہے۔

بین الاقوامی اولمپکس کمیٹی نے بم حملوں پر تعزیت کا اظہار کیا ہے تاہم کمیٹی نے اس اعتماد کا اظہار بھی کیا کہ روس کی حکومت اس بات کی اہلیت رکھتی ہے کہ وہ کھیلوں کے ان مقابلوں کے دوران سکیورٹی فراہم کر سکے۔
XS
SM
MD
LG