رسائی کے لنکس

نیا معاہدہ جنگ میں مارٹر گولوں، 100 ایم ایم کیلیبر سے کم ہتھیاروں اور تمام قسم کے ٹینکوں کا استعمال ختم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

روس اور یوکرین نے اس خطے میں گزشتہ ایک سال سے جاری بحران کو ختم کرنے کی کوشش کے طور پر مشرقی یوکرین کے اگلے محاذوں سے چھوٹے ہتھیاروں کی واپسی پر اتفاق کیا ہے۔

دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے اپنے فرانسیسی اور جرمن ہم منصبوں کے ساتھ برلن میں ہوئی ملاقات میں بین الاقوامی مبصرین کی حمایت اور جنگ سے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو درپیش اہم مسائل کے حل کے لیے چار ورکنگ گروپ قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا، جہاں روس نواز علیحدگی پسند یوکرین کی سرکاری افواج کے ساتھ برسرِ پیکار ہیں۔

یہ ملاقات اس وقت ہوئی جب ڈونیٹسک علاقے کے قریب ایک گاؤں میں تازہ چھڑپپں ہوئیں۔

ملاقات کی میزبانی کرنے والے جرمن وزیرِ خارجہ فرینک والٹر سٹائن مائیر کا کہنا تھا کہ فریقین کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ بیلاروس کے دارالحکومت مِنسک میں فروری اور ستمبر میں ہونے والے معاہدوں کی پابندی کریں۔

سٹائن مائیر نے صحافیوں کو بتایا کہ ’’سب جانتے ہیں کہ ہمارے سامنے ایک طویل راستہ ہے۔ مگر ہم اس عمل کو جاری رکھنے کے لیے جو کچھ کر سکتے ہیں وہ کریں گے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ نیا معاہدہ جنگ میں مارٹر گولوں، 100 ایم ایم کیلیبر سے کم ہتھیاروں اور تمام قسم کے ٹینکوں کا استعمال ختم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

سٹائن مائیر نے کہا کہ چار سفارت کاروں نے سکیورٹی کے مسائل کے حل کے لیے ورکنگ گروپس کے جلد قیام کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا۔ ان مسائل میں باغیوں کے زیرقبضہ علاقوں میں انتخاب کرانا، جنگی قیدیوں کا تبادلہ دوبارہ شروع کرنا اور مشرقی یوکرین کی معاشی صورتِ حال میں بہتری لانا شامل ہے۔

روسی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ فریقین کا یوکرین کی طرف سے امن فوج کی تعیناتی کے مطالبے پر اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا۔

انہوں نے حال ہی میں یوکرین کی پارلیمان کی طرف سے منظور کیے گئے ایک قانون پر بھی تنقید کی جو بقول ان کے منسک معاہدے کو کمزور کرتا ہے۔

XS
SM
MD
LG