رسائی کے لنکس

درجنوں روسی سفارت کاروں پر جعل سازی کے الزامات عائد


تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ میں روسی مشن سے وابستہ سفارت کاروں نے اپنی آمدن کے بارے میں غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے، امریکی ’میڈی کیڈ پروگرام‘ کے لیے مخصوص فوائد کے ضمن میں 15 لاکھ ڈالر ہتھیا لیے

امریکی استغاثہ نے 49 موجودہ اور سابق روسی سفارت کاروں اور اُن کے اہل خانہ پر جعل سازی کے الزام پر فرد جرم عائد کیا ہے، جنھوں نے مبینہ غیر قانونی حربے استعمال کرتے ہوئے غریب افراد کے لیے مخصوص صحت کے فوائد حاصل کیے۔

تفتیش کرنے والوں نے بتایا ہے کہ اقوام متحدہ کے روسی مشن سے وابستہ سفارت کاروں نے اپنی آمدن کے بارے میں غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے امریکی ’میڈی کیڈ پروگرام‘ کے لیے مخصوص فوائد کے ضمن میں 15 لاکھ ڈالر ہتھیا لیے۔ اِن طبی سہولتوں کا تعلق حمل، بچے کی پیدائش اور نوزائدہ بچوں کی دیکھ بھال سے ہے۔

انفرادی طور پر، ملزمان پر صحت کی دیکھ بھال سے متعلق جعل سازی، اور سرکاری رقوم کی چوری کی سازش کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

رائٹرز خبر رساں ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس طرح کے غیر قانونی فوائد سے مستفید ہونے والے کچھ ہی ملزمان اب امریکہ میں تعینات ہیں، سبھی کو سفارتی استثنیٰ حاصل تھا، جن کی گرفتاری کے لیے روس کو ضابطوں میں تبدیلی لانی ہوگی۔

’ایف بی آئی‘ کے ترجمان، پیٹر ڈونالڈ نے کہا ہے کہ اِن میں سے کوئی بھی گرفتار نہیں ہوا۔

اقوام متحدہ کے روسی مشن نے فوریطور پر اِن الزامات سے متعلق کوئی بیان نہیں دیا۔

الزامات کی فہرست میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے اقوام متحدہ میں روسی مشن کے اہل کاروں کے علاوہ نیو یارک میں واقع روسی فیڈریشن کے قونصل خانے اور روسی فیڈریشن کے تجارتی نمائندے سے باضابطہ خط حاصل کیے تھے، جِن میں اُن کی آمدنی سے متعلق غلط بیانی سے کام لیا گیا تھا۔

اُن پر مزید الزام ہے کہ اُن کے اہل خانہ نے تعطیلات پر لاکھوں ڈالر خرچ کیے؛ اور ’سووروسکی‘ اور ’جِمی چو‘ جیسے اسٹوروں سے زیورات اور سامان تعیش خریدا۔

برونکس کے رورڈیل علاقے میں واقع ایک عمارت میں سینکڑوں روسی سفارت کار اور اُن کے اہل خانہ رہائش پذیر ہیں۔
XS
SM
MD
LG