رسائی کے لنکس

امریکہ روس تعلقات میں خرابی کے آثار

  • آندرے نیسنیرا

صدر اوباما اور صدر پوٹن

صدر اوباما اور صدر پوٹن

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ بگڑتے ہوئے تعلقات کی ایک اور علامت یہ ہے کہ روسیوں نے جرائم اور منشیات کی تجارت کے خلاف جنگ کے بارے میں 10 سالہ قدیم سمجھوتہ ترک کر دیا۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے روس کے ساتھ بہتر تعلقات کو اپنی خارجہ پالیسی کی ایک اہم ترجیح قرار دیا ہے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات مسلسل خراب ہو رہے ہیں۔

صدر براک اوباما کی پہلی انتظامیہ میں خارجہ پالیسی پر ان کی نام نہاد reset پالیسی کا غلبہ رہا۔ اس پالیسی کا مقصد یہ تھا واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان تعلقات جو گذشتہ چند برسوں میں جارج ڈبلو واشنگٹن کی انتظامیہ کے آخری چند برسوں میں اور زیادہ خراب ہو گئے تھے، بہتر بنائے جائیں۔

اس کوشش کے کچھ ٹھوس نتائج ضرور بر آمد ہوئے، جیسے تخفیفِ اسلحہ کے ایک اہم سمجھوتے پر دستخط ہوئے جس کے تحت دونوں طرف دور مار نیوکلیئر ہتھیاروں کی تعداد کم ہو گئی ۔ ماسکو نے امریکہ کو روس کے راستے اپنی فوجوں کو افغانستان سے نکالنے کی اجازت دے دی ۔ روس نے اقوامِ متحدہ میں ایران کے مبینہ نیوکلیئر ہتھیاروں کے پروگرام کی بنا پر زیادہ سخت پابندیاں عائد کرنے کے حق میں بھی ووٹ دیا ۔

لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات پھر خراب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

ریاست میسا چوسٹس کے ماؤنٹ ہولیوکی کالج میں روس کے امور کے ماہر اسٹیفن جونز نے کہا’’یہ بات واضح ہے کہ آج کل تعلقات خاصے کشیدہ ہیں اور میرا خیال ہے کہ اس کا کچھ تعلق پوٹن کے تیسری مدت کے لیے صدر بننے سے ہے۔‘‘

ولادیمر پوٹن گذشتہ مئی میں صدر منتخب ہوئے تھے۔ انھوں نے دمتری میدویدف کی جگہ لی جنھوں نے انتخاب میں حصہ نہیں لیا ۔ مسٹر میدویدف آج کل روس کے وزیرِ اعظم ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ آرگنائزیشن کی رچل ڈینبر کہتی ہیں کہ مسٹر پوٹن نے ملکی سیاست میں جو انتہائی ظالمانہ طریقہ اپنایا وہ سوویت عہد کے بعد، سب سے زیادہ سخت گیر تھا ۔’’ میں گذشتہ 21 برسوں سے روس میں انسانی حقوق کی نگرانی کرتی رہی ہوں لیکن میں نے پوری سول سوسائٹی کے خلاف اتنی سخت اجتماعی کارروائی کبھی نہیں دیکھی ۔‘‘

روس کی پارلیمینٹ نے جس پر پوٹن کی حامی سیاسی پارٹی یونائیٹد رشا کا غلبہ ہے، کئی سلسلے وار قانون پاس کیے ہیں جن میں انسانی حقوق کو محدود کیا گیا ہے۔ ڈینبر کہتی ہیں کہ ان میں مظاہروں کو محدود کرنا، غداری کی تعریف کو وسیع کرنا، انٹرنیٹ کے مواد پر پابندیوں میں اضافہ، اور غیر سرکاری تنظیموں پر کنٹرول سخت کرنے کے لیے قانون سازی شامل ہیں۔

روسی حکومت نے امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی یعنی یو ایس ایڈ کو بھی ملک سے خارج کر دیا ۔ یہ وہ تنظیم ہے جس نے روس کی بعض سب سے زیادہ مشہور سول سوسائٹی کی تنظیموں کو فنڈز کی فراہمی میں مدد دی ہے ۔ ان تنظیموں میں ماسکو کا ووٹوں کی گنتی کرنے والا واحد غیر جانبدار گروپ گولوس اور ملک میں انسانی حقوق کا ایک بڑا گروپ میموریل شامل ہے۔

امریکہ میں، کانگریس نے ایک بل منظور کیا جسے ’’میگنٹسکی بل‘‘ کہا جاتا ہے ۔ یہ نام ایک وکیل سرگئی میگنٹسی کے نام پر رکھا گیا ہے جو 2009 میں مبینہ طور پر اذیتیں دیے جانے کے بعد انتقال کر گئے۔ کہا جاتا ہے کہ انھوں نے روس کی تاریخ میں ٹیکس میں دھوکہ دہی کے سب سے بڑے واقعے کو بے نقاب کر دیا تھا۔ کانگریس کے قانون کے تحت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث روسیوں کی مالی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں اور انہیں امریکی ویزا کے اجرا کی ممانعت کر دی گئی ہے۔

کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر رابرٹ لیگوولڈ کہتے ہیں کہ اس کے بعد ماسکو نے جوابی کارروائی کی ۔’’روسی شہریوں پر مقدمہ چلائے جانے کو یا روسی شہریوں پر الزام لگائے جانے اور پھر بغیر مقدمہ چلائے سزا دینے پر تنقید کو روسیوں نے غیر ملکی مداخلت قرار دیا ۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ یہ طے کرنا ان کا کام ہے کہ ایسے کیسوں میں کیا کیا جائے ۔ اور پھر روسی قانون سازوں نے بہت بڑی تعداد میں جوابی کارروائی کی، اور بھاری اکثریت سے وہ قانون منظور کیا جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی روسی بچوں کو گود نہیں لے سکتے ۔‘‘

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ بگڑتے ہوئے تعلقات کی ایک اور علامت یہ ہے کہ روسیوں نے جرائم اور منشیات کی تجارت کے خلاف جنگ کے بارے میں 10 سالہ قدیم سمجھوتہ ترک کر دیا، جب کہ واشنگٹن سول سوسائٹی کے بارے میں ایک مشترکہ ورکنگ گروپ سے نکل گیا۔

لیگوولڈ سمیت بہت سے ماہرین کہتے ہیں کہ امریکہ اور روس کے درمیان تعلقات پر، سول سوسائٹی کے خلاف مسٹر پوٹن کے اقدامات کے منفی اثرات مرتب ہو رہےہیں ۔

’’پس اس قسم کے بہت سے اقدامات کیے جا چکے ہیں جو دراصل ان اہم مسائل کے خلاف جاتے ہیں جن پر ہم دونوں کو مل جل کر کام کرنا چاہیئے جیسے نیوکلیئر ہتھیار، ان کا پھیلاؤ، ایران، عرب موسمِ بہار، افغانستان ، یعنی افغانستان کی جنگ ، وغیرہ ۔‘‘

لیگوولڈ کہتے ہیں کہ اگلے چند مہینوں میں امریکہ اور روس کے درمیان تعلقات کے بارے میں کوئی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی ۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کیا دونوں ملک چغلیاں کھانے سے دور جا سکتے ہیں، اور تعلقات کو ایک بار پھر صحیح ڈگر ڈال سکتے ہیں ۔
XS
SM
MD
LG