رسائی کے لنکس

نورڈیک مشقوں کے نام سے جانی جانے والی روس کی یہ مشقیں چار جون تک جاری رہیں گی، جبکہ اسی دوران 4500 فوجیوں کے ساتھ نیٹو کا 17 ممالک کا سالانہ بالٹک آپریشن بھی پانچ جون تک جاری رہے گا

قطب شمالی میں تناؤ کےباوجود، روس نے نیٹو کے مقابلے میں اپنی فضائی فوج کی مشقوں کا نیا سلسلہ شروع کردیا ہے۔

سات سو سے زائد آلات حرب، کوئی 12000 روسی فوجی اور 250 جیٹ طیاروں نے سوموار کو فضائی مشقوں کا آغاز کیا۔ اسی دن امریکہ اور اس کے آٹھ اتحادی یورپی ممالک کے 100 لڑاکا جیٹ طیاروں نے بھی قطب شمالی چیلنج ایکسرسائز 2015ء کا آغاز کردیا ہے، جس میں 4000 فوجی حصہ لے رہے ہیں۔

نورڈیک مشقوں کے نام سے جانی جانے والی روس کی یہ مشقیں چار جون تک جاری رہیں گی، جبکہ اسی دوران 4500 فوجیوں کے ساتھ نیٹو کا 17 ممالک کا سالانہ بالٹک آپریشن بھی پانچ جون تک جاری رہے گا۔

روسی وزارت دفاع کے ذرائع کے مطابق یہ مشقیں براہ راست صدر ویلادیمر پیوٹن کی ہدایت پر شروع کی گئی ہیں، جو 28 مئی تک دریائے ولگا سے سائبریا تک کے علاقے میں ہوں گی۔

ڈنمارک، فین لینڈ، آئس لینڈ، ناروے اور سویڈن سمیت نو ممالک نےگزشتہ چند دنوں میں اپنی سرحدوں کے ساتھ روسی فضائیہ کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کی خبر دی ہے اور نیٹو سے قریبی فوجی تعاون کا وعدہ کیا ہے۔

روس نے 2014ء میں جزیرہ نما کریمیا اور مشرقی یوکرین میں جاری تنازعہ میں ماسکو کے ملوث ہونے کے بعد، اپنی فوجی مشقوں کو مذید بہتر کیا ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعدسے اب تک کے دوران، اس کے مغرب سے تعلقات اپنی نچلی ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔

پولینڈ اور تین بالٹک ریاستوں۔۔۔ ایسٹونیا، لیٹویا، لیتھونیا نے موجودہ صورتحال میں اپنی فوجی اخراجات میں اضافہ کر دیا ہے؛ اور اپنے نیٹو اتحادیوں، خصوصاً امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خطے میں اپنی موجودگی کا احساس دلائیں، جبکہ نیٹو پہلے ہی روس سے ملنے والی بالٹک ممالک کے لئے اپنا ایئرپالیسی مشن جاری رکھے ہوئے ہے۔

XS
SM
MD
LG