رسائی کے لنکس

شامی حکومت کو طیارہ شکن میزائل دیں گے، روس کا اعلان


روس کا 'ایس- 300' فضائی دفاعی نظام جو ماسکو حکومت نے شام کو دینے کا اعلان کیا ہے۔

روس کا 'ایس- 300' فضائی دفاعی نظام جو ماسکو حکومت نے شام کو دینے کا اعلان کیا ہے۔

روسی نائب وزیرِ خارجہ کے بقول میزائلوں کی فروخت سے "جنگ کے خواہش مند ان عناصر" کی حوصلہ شکنی ہوگی جو شام میں غیر ملکی فوجی مداخلت کے خواب دیکھ رہے ہیں۔

روس نے اعلان کیا ہے کہ وہ شام کو طیارہ شکن میزائل فراہم کرنے پر غور کر رہا ہے تاکہ دمشق حکومت غیر ملکی حملوں کی صورت میں اپنا دفاع کرسکے۔

روس کے نائب وزیرِ خارجہ سرجئی ریبا کووف نے کہا ہے کہ ان کا ملک صدر بشار الاسد کی حکومت کو 'ایس – 300' طیارہ شکن میزائل دینے کا ارادہ رکھتا ہے جو ان کے بقول "شام کی صورتِ حال کو متوازن بنانے میں معاون ثابت ہوں گے"۔

منگل کو ماسکو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روسی نائب وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ میزائلوں کی شام کو فروخت کے نتیجے میں "جنگ کے خواہش مند ان عناصر" کی حوصلہ شکنی ہوگی جو شام میں غیر ملکی فوجی مداخلت کے خواب دیکھ رہے ہیں۔

لیکن روسی وزیر نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان کی حکومت شام کو مذکورہ فضائی دفاعی نظام کب تک فراہم کرے گی؟ خیال رہے کہ ماسکو اور دمشق کے درمیان ان میزائلوں کی خریداری کا معاہدہ کئی برس قبل ہوا تھا۔

روسی وزیر کے اس اعلان کے بعد امریکہ اور اسرائیل نے ماسکو حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ شامی حکومت کو فضائی دفاعی نظام کی فراہمی سے گریز کرے۔

روسی نائب وزیرِ خارجہ نے اپنی گفتگو میں یورپی یونین کے اس فیصلے پر بھی کڑی تنقید کی جس کے تحت شام میں اسد حکومت کے خلاف لڑنے والے باغیوں کو یورپی ممالک کی جانب سے اسلحے کی فراہمی کی اجازت دیدی گئی ہے۔

سرجئی ریبا کووف نے الزام عائد کیا کہ یورپی یونین شام میں جاری خانہ جنگی کی آگ پر مزید تیل چھڑک رہی ہے اور یہ فیصلہ روس اور امریکہ کی جانب سے شامی بحران کے حل کے لیے کی جانے والی مشترکہ سفارتی کوششوں کو متاثر کرے گا۔

خیال رہے کہ 27 ملکی یورپی اتحاد نے شام کو اسلحے کی فراہمی پر عائد پابندی میں نرمی کا فیصلہ پیر کو برسلز میں ہونے والے اپنے ایک اجلاس میں کیا تھا۔

فیصلے کے تحت شامی حکومت کو اسلحے کی فراہمی پر عائد پابندی بدستور برقرار رہے گی جب کہ حزبِ اختلاف کے مرکزی اتحاد 'سیرین نیشنل کولیشن' کو ہتھیار فراہم کرنے کی اجازت ہوگی۔

لیکن یورپی ممالک نے یکم اگست سے قبل باغیوں کو ہتھیار فراہم نہ کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے تاکہ شام میں قیامِ امن کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں کو مزید موقع دیا جاسکے۔

شامی حزبِ اختلاف نے یورپی یونین کے فیصلے کو مثبت قدم قرار دیتے ہوئے اسے "قدرے تاخیر سے اور توقعات سے کہیں کم" گردانا ہے۔

اس کے برعکس حزبِ اختلاف سے منسلک جنگجووں کی تنظیم 'فری سیرین آرمی' کے ایک ترجمان نے یورپی یونین کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی ممالک نے باغیوں کو ہتھیاروں کی فراہمی میں تاخیر کرکے شامی عوام کو مزید دو ماہ کے لیے اسد حکومت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔
XS
SM
MD
LG