رسائی کے لنکس

تین ماہ قبل، روس نے یوکرین میں روس نواز صدر وکٹر یانکووچ کے اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد یوکرین میں تعینات اپنے سفیر کو واپس بلا لیا تھا

یوکرین میں نئے منتخب صدر پیٹر پوروشینکو کی تقریب ِحلف برداری میں روسی سفیر شرکت کریں گے۔

روسی وزارت ِخارجہ کے ترجمان نے ایک بریفنگ میں اس بات کا اعلان کیا اور کہا کہ اس امر کے باوجود کہ روس پر یوکرین میں مداخلت کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں، روسی سفیر نئے منتخب یوکرینی صدر کی تقریب ِحلف برداری میں شرکت کریں گے۔

یوکرین میں حالیہ صدارتی انتخابات کے نتیجے میں پیٹر پوروشینکو کو 25 مئی کو یوکرین کا نیا صدر منتخب کیا گیا تھا۔ پیٹر پوروشینکو کے صدر منتخب ہونے کے بعد سے اب تک مشرقی یوکرین میں روس نواز باغیوں اور حکومت کے درمیان لڑائیوں اور تصادم میں درجنوں ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

دوسری جانب، یوکرین اس عزم کا اظہار کرتا ہے کہ وہ ’دہشت گردی کے خلاف آپریشن‘ جاری رکھے گا۔

روسی وزارت ِخارجہ کے ترجمان، الیگزینڈر لوکاشیوچ نے ایک بریفنگ میں بتایا کہ، ’یوکرین کے لیے روسی سفیر، میخائیل زورابو یوکرین کے منتخب صدر کی تقریب ِحلف برداری میں شرکت کریں گے‘۔

روسی وزارت ِخارجہ کے ترجمان، الیگزینڈر لوکاشیوچ کا مزید کہنا تھا کہ، ’روسی سفیر کیئف واپس جا کر اپنے فرائض سنبھالیں گے‘۔

واضح رہے کہ تین ماہ پیشتر روس نے یوکرین میں روس نواز صدر وکٹر یانکووچ کے اقتتدار سے بے دخل ہونے کے بعد یوکرین میں تعینات اپنے سفیر کو واپس بلا لیا تھا۔

روس کی جانب سے اس اعلان سے قبل یہ واضح نہیں تھا آیا یوکرین کے نئے منتخب صدر کی تقریب ِ حلف برداری میں روس سے کوئی نمائندگی کی جائے گی یا نہیں۔

یوکرین کے نئے صدر کی تقریب ِ حلف برداری ہفتے کے روز ہونے والی ہے۔

دوسری طرف، برسلز میں جمعرات کو G7 یعنی اقتصادی طور پر مضبوط سات عالمی طاقتوں کے اجلاس میں یوکرین کا مسئلہ نمایاں رہا اور تمام عالمی راہنما اس بات پر اتفاق کرتے دکھائی دئیے کہ اگر روس نے یوکرین میں مداخلت ختم نہ کی تو روس کو مزید کڑی اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

روس کی جانب سے یوکرین میں مداخلت کے الزامات کی ہمیشہ تردید کی جاتی رہی ہے اور روس کا ہمیشہ یہی موقف رہا ہے کہ وہ مشرقی یوکرین میں کسی قسم کی کوئی مداخلت نہیں کر رہا اور نہ ہی وہاں موجود باغیوں کو کسی بھی طرح کی مدد فراہم کر رہا ہے۔
XS
SM
MD
LG