رسائی کے لنکس

روس: ایٹمی آب دوز میں آتشزدگی کی اطلاعات


فائل

فائل

بندرگاہ کے ایک ترجمان نے وضاحت کی ہے کہ حادثے کے وقت متاثرہ آب دوز پر کوئی ہتھیار موجود نہیں تھا۔

روس کی ایک شمالی بندر گاہ پر لنگر اندازایک ایٹمی آب دوز میں آتشزدگی کی اطلاعات ہیں تاہم روسی حکام نے وضاحت کی ہے کہ متاثرہ آب دوز پر ایٹمی ہتھیار موجود نہیں تھے۔

روسی ذرائع ابلاغ کے مطابق حادثہ شمالی صوبے ارخان جلسک کی بندرگاہ ویو دوچکا میں پیش آیا۔ خبر رساں اداروں کا کہنا ہے کہ بندر گاہ پر 500 میٹر طویل '949 آنتائی' ساختہ آب دوز کی مرمت کی جارہی تھی جب اس میں آگ بھڑک اٹھی۔

روسی خبر رساں ادارے 'انٹرفیکس' کے مطابق اسے بندرگاہ کی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا ہے کہ فوری کارروائی کرکے آگ پر قابو پالیا گیا ہے۔

روسی وزارتِ حادثات نے واقعے کی تفصیلات بیان کرنے سے انکارکردیا ہے۔ تاہم بندرگاہ کے ایک ترجمان نے وضاحت کی ہے کہ متاثرہ آب دوز پر کوئی ہتھیار موجود نہیں تھا۔

خبر رساں ادارے 'طاس' کو ایک روسی اہلکار نے بتایا ہے کہ آب دوز کا ایٹمی ری ایکٹر آتشزدگی سے قبل بند کیا جاچکا تھا جس کے باعث کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا ہے۔

اہلکار نے بتایا کہ آب دوز کو کچھ سال قبل مرمت کے لیے لایا گیا تھا اور اسی وقت اس کے ری ایکٹر کا 'ایکٹو زون' نکال لیا گیا تھا جسے نقصان پہنچنے کی صورت میں تابکاری پھیلنے کا خدشہ ہوتا ہے۔

روسی ذرائع ابلاغ کے مطابق آب دوز میں آگ ویلڈنگ کے دوران لگی جس نے قریبی چیزوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

اس سے قبل 2011ء میں بھی ایک بندر گاہ پر لنگر انداز روسی آب دوز میں آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھا ۔ روسی حکام نے اس وقت بھی دعویٰ کیا تھا کہ آتشزدگی کے وقت آب دوز پر ایٹمی ہتھیار موجود نہیں تھے۔

لیکن حادثے کے کئی ماہ بعد ایک روسی جریدے نے حکام کے ان دعووں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ آتشزدگی کے وقت آب دوز پر جوہری ہتھیار لدے ہوئے تھے اور اگر آگ فوراً نہ بجھائی جاتی تو کوئی بڑا جوہری حادثہ ہوسکتا تھا۔

XS
SM
MD
LG