رسائی کے لنکس

روسی طیارے نے فضائی حدود کی خلاف ورزی کی: ترکی


فائل

فائل

ترکی کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ روسی ایس یو 34 لڑاکا طیارہ جمعے کے روز صبح 11 بج کر 45 منٹ (’یو ٹی سی‘ کے مطابق 0945) پر ترکی کی فضائی حدود میں داخل ہوا، باوجود اِس بات کے کہ ترک اور نیٹو اہل کاروں نے متعدد بار انتباہ جاری کیا

ترکی اور روس کے مابین ہفتے کو کشیدگی میں اُس وقت اضافہ ہوا جب ترکی اور نیٹو نے بتایا کہ روس کے ایک لڑاکا طیارے نے ترک فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے۔ روس نے ترکی کے الزام کو ’’بے بنیاد پروپیگنڈا‘‘ قرار دیتے ہوئے، مسترد کیا ہے۔

ترکی کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ روسی ایس یو 34 لڑاکا طیارہ جمعے کے روز صبح 11 بج کر 45 منٹ (’یو ٹی سی‘ کے مطابق 0945) پر ترکی کی فضائی حدود میں داخل ہوا، باوجود اِس بات کے کہ ترک اور نیٹو اہل کاروں نے متعدد بار انتباہ جاری کیا۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے روس کو متنبہ کیا کہ اگر خلاف ورزی جاری رہی تو اِس کے ’’نتائج‘‘ بھگتنے پڑیں گے۔ اُنھوں نے روسی کارروائی کو ’’غیر ذمہ دارانہ‘‘ قرار دیا۔ اُنھوں نے استنبول کے ہوائی اڈے پر اخباری نمائندوں سے گفتگو کی، جب وہ لاطینی امریکہ کے دورہ پر روانہ ہو رہے تھے۔

ترک حکومت نے کہا ہے کہ اُس کی جانب سے انقرہ میں روسی سفیر کو طلب کر کے واقعے پر احتجاج کیا گیا۔

ماسکو میں، روسی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے کہا ہے کہ روسی فضائیہ کے طیاروں نے ’’ایک بھی خلاف ورزی نہیں کی‘‘۔

نیٹو کے سکریٹری جنرل، ژاں اسٹولٹنبرگ نے ترک فضائی حدود میں روسی مداخلت کو ’’خطرناک‘‘ رویہ قرار دیتے ہوئے، اتحاد کی جانب سے ترکی سے اظہارِ یکجہتی کا اعادہ کیا، جو اتحاد کا رُکن ملک ہے۔

ہفتے کے روز جاری ہونے والے ایک بیان میں، اسٹولٹنبرگ نے کہا کہ ’’میں روس پر زور دیتا ہوں کہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے نیٹو کی فضائی حدود کی حرمت کا پورا خیال کرے۔ روس کو وہ تمام ضروری اقدام کرنے چاہئیں جن کی مدد سے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ایسی خلاف ورزی پھر سرزد نہیں ہوگی‘‘۔

نومبر میں روس اور ترکی کے مابین کشیدگی میں اُس وقت اضافہ ہوا تھا جب ترکی نے روسی لڑاکا طیارہ مار گرایا تھا، جس کے لیے ترکی کا کہنا تھا کہ اُس نے شام کے ساتھ والی سرحد پر اُس کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی۔ اُس واقعے پر بھی روس نے تردید کی تھی کہ اُس کا طیارہ ترک فضائی حدود میں داخل ہوا تھا۔

بنیادی طور پر، روس اور ترکی شام کے تنازعے پر ایک دوسرے سےاختلاف رکھتے ہیں، جہاں دونوں ملکوں کی جانب سے فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔

ستمبر میں، روسی لڑاکا طیارے صدر بشار الاسد کی حمایت میں شامی باغیوں کے خلاف فضائی حملے شروع کیے۔ ترکی اس بات کا خواہاں ہے کہ اسد اقتدار چھوڑ دیں۔

گذشتہ برس سے، ترکی کے جنگی طیارے شام کے اندر داعش کے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG