رسائی کے لنکس

روس: کئی روز سے 'لاپتا' پیوٹن منظرِ عام پر آگئے


پیر کو سینٹ پیٹرز برگ میں واقع ایک صدارتی محل میں اپنے کرغز ہم منصب کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران روسی صدر ہشاش بشاش نظر آئے۔

پیر کو سینٹ پیٹرز برگ میں واقع ایک صدارتی محل میں اپنے کرغز ہم منصب کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران روسی صدر ہشاش بشاش نظر آئے۔

صدر پیوٹن کو پانچ مارچ کو آخری بار عوام میں دیکھا گیا تھا جس کے بعد سے وہ منظرِ عام سے غائب تھے۔

روس کےصدر ولادی میر پیوٹن لگ بھگ 10 روز تک "لاپتا" رہنے کے بعد منظرِ عام پر آگئے ہیں۔

پیر کو روس کے شہر سینٹ پیٹرز برگ میں کرغزستان کے صدر الماس بیگ اتمبائیوو کے ساتھ ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے روسی صدر نے اپنی گمشدگی سے متعلق سوالات کو مسکرا کر ٹال دیا۔

صدر پیوٹن کو پانچ مارچ کو آخری بار عوام میں دیکھا گیا تھا جس کے بعد سے وہ منظرِ عام سے غائب تھے۔ ان کی اس غیر معمولی گمشدگی پر مغربی ذرائع ابلاغ میں قیاس آرائیاں ہورہی تھیں۔

روسی وزارتِ خارجہ نے روسی صدر کا 12 اور 13 مارچ کا طے شدہ دورۂ قازقستان بھی بغیر کوئی وجہ بتائے ملتوی کردیا تھا جہاں انہیں قازقستان اور بیلاروس کے صدور سے ملاقاتیں کرنا تھیں۔

روسی صدر کے اس دورے کی منسوخی نے بھی کئی قیاس آرائیوں اور افواہوں کو جنم دیا تھا جن کی بازگشت واشنگٹن تک سنی گئی تھی۔

مغربی دنیا اور ذرائع ابلاغ نے ماسکو میں طاقت ور حلقوں کی بغاوت کے دوران صدر پیوٹن کے زخمی ہونے یا انہیں نظر بند کیے جانے کا اندیشہ ظاہر کیا تھا جب کہ ان کی علالت کی افواہیں بھی گرم تھیں۔

بعض مغربی اخبارات نے گمان ظاہر کیا تھا کہ روسی صدر سوئٹزرلینڈ یا کسی اور مقام پر اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ چھٹیاں منا رہے ہیں لیکن ان میں سے کسی قیاس آرائی کی تصدیق نہیں ہوسکی تھی۔

روسی حکومت کے مرکز 'کریملن' نے تمام افواہوں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ صدر پیوٹن کی قازق اور بیلاروس کے صدور کے ساتھ ملاقات 20 مارچ تک ملتوی کردی گئی ہے۔

پیر کو سینٹ پیٹرز برگ میں واقع ایک صدارتی محل میں اپنے کرغز ہم منصب کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران روسی صدر ہشاش بشاش نظر آئے۔

صدر پیوٹن نے اپنی گمشدگی سے متعلق مغربی دنیا میں گرم افواہوں سے متعلق ایک سوال پر مسکراتے ہوئے کہا کہ "اگر افواہیں نہ ہوں تو بندہ بیزار ہی ہوجائے"۔

XS
SM
MD
LG