رسائی کے لنکس

روس کے صدر ولادیمر پوٹن بھارت کے ایک روزہ دورہ پر جمعرات کو نئی دہلی پہنچے جہاں ان کی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات ہوئی۔

روس اور بھارت نے تیل و گیس، جوہری توانائی اور دفاع کے شعبوں سمیت مفاہمت کی 16 مختلف یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں۔

روس کے صدر ولادیمر پوٹن بھارت کے ایک روزہ دورہ پر جمعرات کو نئی دہلی پہنچے جہاں ان کی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات ہوئی۔

بھارتی اور روسی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس دورے میں ہونے والی ملاقاتوں کا محور فوجی تعاون، خلائی تحقیق اور جوہری توانائی کے نئے منصوبوں کی تعمیر ہے۔

روس کو یوکرین کے بحران میں اپنے مبینہ کردار کی وجہ سے مغرب کی سخت اقتصادی تعزیرات کا سامنا ہے اور مبصرین کے بقول پوٹن اسی تناظر میں توانائی کی نئی منڈیوں کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔

روسی صدر کے بعد وزیراعظم مودی کا کہنا تھا کہ روس بدستور ان کے ملک کا سب سے اہم دفاعی شراکت دار رہے گا۔

صدر پوٹن کا کہنا تھا کہ وہ بھارت کے ساتھ باہمی شراکت داری، دوستی اور اعتماد کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

ادھر یوکرین کے سابقہ خطے اور اب روس میں شامل کرائمیا کے رہنما سرگئی اکسیونوف نے بھی جمعرات کو نئی دہلی میں عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں۔

بھارت روس پر مغربی تعزیرات کی حمایت نہیں کرتا لیکن ان تازہ ملاقاتوں سے خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ جنوری میں امریکی صدر براک اوباما کے دورہ بھارت سے قبل یہ تعلقات پر "اثر انداز" ہو سکتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG