رسائی کے لنکس

امریکہ کے دو اعلی حکام کا کہنا ہے کہ روس نے گزشتہ دو دنوں میں ٹینک لے جانے والے دو جہاز اور اضافی ایئرکرافٹ بھیجے ہیں اور کچھ نیول انفنٹری تعینات کی ہے

روسی افواج نے شام میں سرکاری فوجوں کے ہمراہ براہ راست جنگ میں حصہ لینا شروع کردیا ہے۔

سیاسی اور فوجی صورتحال پر نظر رکھنے والے لبنان کے تین ذمہ دار ذرائع نے بدھ کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ امریکہ کی جانب سے خطے میں روسی فوجی، جو کہ اسد حکومت کے اتحادی ہیں، کی مداخلت کے حوالے سے انکشافات میں کوئی مبالغہ آرائی شامل نہیں۔ تاہم، روسیوں کی تعداد بہت زیادہ نہیں ہے۔

امریکہ کے دو اعلی حکام کا کہنا ہے کہ روس نے گزشتہ دو دنوں میں ٹینک لے جانے والے دو جہاز اور اضافی ایئرکرافٹ بھیجے ہیں اور کچھ نیول انفنٹری تعینات کی ہے۔

صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی حکام کا کہنا ہے کہ شام میں روسی مداخلت کے مقاصد اب تک واضح نہیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ تاہم، ایک اور ذریعہ کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر اس بات کے اشارے ملے ہیں کہ روسی اسد حکومت کے ساحلی شہر لتاکیا میں ایک ہوائی اڈہ قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

روسیوں کے اقدامات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں کہ جب اسد حکومت کو چار سالہ سہ رُخی جنگ کےمیدان میں بڑے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس جنگ میں اب تک ڈھائی لاکھ افراد ہلاک اور شام کی نصف آبادی، جو 2 کروڑ 30 لاکھ لوگوں پر مشتمل ہے، بے گھر ہوئی ہے۔

بدھ کو ایک اور اہم فضائی طیارے سے شامی افواج کو ہاتھ دھونا پڑا جس کے بعد کے ایک نگراں گروپ کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب ہے اب سرکاری افواج کی ادلب صوبےمیں مزید موجودگی کے امکانات ختم ہوگئے ہیں، جبکہ صوبے کے بشتر علاقے پہلے ہی سرکاری کنڑول سے نکل چکے ہیں۔

ماسکو نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس کے ماہرین میدان جنگ میں موجود ہیں۔ لیکن، روس اپنی فوجی موجودگی اور اس کے مقاصد کے حوالے سے اصل صورتحال پر تبصرہ کرنے سے انکاری ہیں۔ شامی حکومت نے جنگ میں روسی مداخلت کی تصدیق نہیں کی۔

تاہم، ان کا کہنا ہے کہ یہاں تعینات روسی ماہرین کی تعداد میں گزشتہ برس کے دوران اضافہ ہوا ہے۔

شام میں داعش کے خلاف فضائی جنگ میں شریک امریکی حکام نے جو اسد حکومت کے بھی خلاف ہیں، کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں مبینہ طور پر روسی اسد حکومت کو امداد فراہم کرکے اسے مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG