رسائی کے لنکس

روسی ہتھیاروں کی یوکرینی باغیوں کو منتقلی کا عیاں امکان: امریکہ


فائل

فائل

پینٹاگان کے ترجمان، اسٹیو وارن نے جمعے کے روز اپنے بیان میں کہا کہ اہل کاروں کا خیال ہے کہ ہتھیاروں کی فراہمی میں پہلے کے برعکس، بھاری دہانے اور زیادہ دور مار کرنے والے توپ خانے کا نظام شامل ہے

پینٹاگان کا کہنا ہے کہ اُسے اطلاعات ملی ہیں کہ یوکرین کے علیحدگی پسندوں کو روسی اسلحہ منتقل کیے جانے کے ’واضح امکانات‘ ہیں۔

پینٹاگان کے ترجمان، اسٹیو وارن نے جمعے کے روز اپنے بیان میں کہا کہ اہل کاروں کا خیال ہے کہ ہتھیاروں کی فراہمی میں پہلے کے برعکس، بھاری دہانے اور زیادہ دور مار کرنے والے توپ خانے کا نظام شامل ہے۔

امریکہ کئی ہفتوں سے یہ کہتا آ رہا ہے کہ روس علیحدگی پسندوں کو اسلحہ اور آلات فراہم کر رہا ہے۔

وارن نے کہا کہ امریکہ نے ہتھاروں کے اِن نظاموں کو یوکرین کی سرحد کے نزدیک جاتے ہوئے دیکھا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اِن ہتھیاروں کی منتقلی گھنٹوں کے اندر اندر ہو سکتی ہے، حالانکہ اصل وقت کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔


وارن نے یہ بھی کہا کہ یوکرین کی سرحد کے پار سے روسی توپ خانے کی فائرنگ جاری ہے، لیکن اُنھوں نے کہا کہ امریکہ کے پاس اس بات کے شواہد نہیں کہ یوکرین روس کے اندر فائر کر رہا ہے، جیسا کہ روس نے الزام لگایا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ بھیجے جانے والے نظاموں میں ’زمین سے زمین پر مار کرنے والے نظام‘ شامل ہیں، نہ کہ زمین سے فضا میں مار کرنےوالے نظام، جِن کے بارےمیں شبہ ہے کہ وہ گذشتہ ہفتے ملائیشین ایئرلائنز کے طیارے کو مار گرانے میں استعمال ہوئے، جِس واقعے میں تقریباً 300 افراد ہلاک ہوئے۔

وارن نے کہا کہ یہ نئی پیش رفت ’شدید تشویش‘کی باعث ہے، جِس سے مشرقی یوکرین میں شہری آبادی کی ہلاکتوں میں اضافے کا امکان ہے۔


جمعے ہی کے روز، یورپی یونین کے سفیروں کا برسلز میں اجلاس جاری رہا، جِس میں روس پر مزید تعزیرات عائد کرنے کے بارے میں غور کیا گیا، اُس صورت میں کہ روس علیحدگی پسندوں کو ہتھیاروں کی فراہمی جاری رکھتا ہے۔ یہ بات چیت اگلے ہفتے بھی جاری رہ سکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG