رسائی کے لنکس

سارک ممالک کے مابین تعاون بڑھانے پر زور

  • ب

سارک ممالک کے مابین تعاون بڑھانے پر زور

سارک ممالک کے مابین تعاون بڑھانے پر زور

بھوٹان کے دارالحکومت تھمپومیں جنوبی ایشیائی ملکوں کی علاقائی تعاون کی تنظیم ”سارک“کے آٹھ رکن ممالک کے دو روز ہ سربراہ اجلاس کے پہلے روز بھارت اور پاکستان کے وزرائے اعظم نے اپنے اپنے خطاب میں خطے کے ممالک کے مابین تعاون بڑھانے پر زور دیا ہے۔

بھارت کے وزیراعظم من موہن سنگھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اکیسویں صدی اُس وقت تک ایشیا کی نہیں ہو سکتی جب تک کہ جنوبی ایشیا کے تمام ممالک مل کر آگے بڑھنے کا سفر شروع نہ کریں۔ اُنھوں نے کہا کہ سارک کی 25 سالہ تاریخ میں ترقی کی کئی منازل طے کی گئیں لیکن تاحال تنظیم کے ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری سمیت دیگر شعبوں میں بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ خطے کی ترقی کے لیے علاقائی امن اور استحکام ضروری ہے اور سارک تنظیم کے تمام رکن ممالک کو دہشت گردی کے خلاف مل کر کام کرنا ہوگا۔

افتتاحی اجلاس سے خطاب میں دونوں ممالک کے وزرا ئے اعظم نے خطے کو ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث درپیش خطر ات سے نمٹنے پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ اس اجلاس کے ایجنڈے پر بھی یہ معاملہ سرفہرست ہے۔

گذشتہ روز تنظیم کے رکن ممالک کے وزراء خارجہ نے سربرا ہ اجلاس کے ایجنڈے کو حتمی شکل دی جس میں موسمیاتی تبدیلی پر ایک مشترکہ بیان جاری کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا گیا۔

پاک بھارت وزرائے اعظم (فائل فوٹو)

پاک بھارت وزرائے اعظم (فائل فوٹو)

سارک کے رکن ممالک کے درمیان اس اجلاس میں طے پانے والے معاملات کے علاوہ تنظیم کے دو بڑے رکن ملکوں پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کے درمیان جمعرات کو ہونے والی دوطرفہ ملاقات کو خاصی اہمیت دی جار ہی ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ سفارتی ذرائع سے وزیراعظم یوسف رضاگیلانی اور وزیراعظم من موہن سنگھ کے درمیان ملاقات طے پا گئی ہے جو بھوٹان کے دارالحکومت تھمپو میں سربراہ اجلاس کے دوسرے روز ہو گی۔ تاہم اس حوالے سے سرکاری طور پر مزید کچھ نہیں بتایا گیا ہے کہ اس اہم ملاقات کا ایجنڈا کیا ہو گا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان 2004ء کے اوائل میں شروع ہونے والے جامع مذاکرات بھارت نے نومبر 2008ء میں اس وقت ختم کر دیے تھے جب مبینہ طور پر پاکستانی کالعدم تنظیم لشکرِطیبہ سے تعلق رکھنے والے انتہا پسندوں نے ممبئی میں ایک ساتھ کیے گئے مختلف حملوں میں کم از کم 166افراد ہلاک کر دیے تھے۔

بھارت کا اصرار ہے کے مذاکراتی عمل اس وقت تک شروع نہیں کیا جا سکتا جب تک پاکستان لشکرِطیبہ کے خلاف کارروائی نہیں کرتا۔ ادھر پاکستان نے بھارت سے ممبئی حملوں میں زندہ بچ جانے والے واحد حملہ آور اجمل قصاب کی تحویل کا مطالبہ کیا ہے تاکہ پاکستان میں قید ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی میں مدد مل سکے۔

XS
SM
MD
LG