رسائی کے لنکس

جنوبی ایشیائی ملکوں کی علاقائی تعاون کی تنظیم ’سارک‘ کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ خطے کے ممالک کو کم و بیش ایک ہی طرح کی قدرتی آفات کا سامنا ہے۔

جنوبی ایشیائی ملکوں کی علاقائی تعاون کی تنظیم ’سارک‘ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ہندوکش اور ہمالیہ کے پہاڑی خطے میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ناگہانی آفات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسی آفات کے نقصانات کو کم کیا جا سکے۔

پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ سارک تنظیم کے اس منفرد اجلاس میں شریک رکن ملکوں کے عہدیداروں اور ماہرین نے قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے موثر اور جامع منصوبہ بنانے پر اتفاق کیا۔

اسلام آباد میں جمعہ کو ختم ہونے والے اس دو روزہ اجلاس میں شریک عہدیداروں اور ماہرین نے بتایا کہ خطے کے ممالک کو کم و بیش ایک ہی طرح کی قدرتی آفات کا سامنا ہے اور حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ ان کے تدارک کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنائی جائے۔

پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے ’این ڈی ایم اے‘ کے سربراہ ظفر اقبال قادر نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ سارک تنظیم میں شامل آٹھوں ممالک کے مندوبین اس بات پر متفق تھے کہ قریبی تعاون اور معلومات کے تبادلے سے ممکنہ آفات سے موثر انداز میں نمٹا جا سکے گا۔

’’ماحولیاتی تبدیلی اور آفات کی کوئی سیاسی حدود نہیں ہوتی ہیں۔ اگر نیپال میں شدید برف باری ہوتی ہے تو اس کا اثر بھارت پر ہوتا ہے، اگر بھارت کے زیرانتظام کشمیر، ہریانہ یا ہماچل پردیش میں مون سون کی شدید بارشیں ہوتی ہیں تو اس کے اثرات پاکستان پر ہوتے ہیں … اس مشترکہ حکمت عملی کا مقصد لوگوں کی جانیں بچانا ہے۔‘‘

اجلاس میں اس تجویز پر بھی اتفاق کیا گیا کہ مستقبل میں عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطے پر اثرات اور جنوبی ایشیائی ممالک میں آفات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں سے متعلق معلومات کو رکن ممالک کے تعلیمی اداروں کے نصاب کا حصہ بنایا جائے۔

سارک تنظیم 1985 میں قائم کی گئی تھی لیکن اپنے قیام کے بعد سے تاحال یہ تنظیم علاقائی ملکوں کے مابین تعاون کے حوالے سے کوئی قابل ذکر کردار ادا نہیں کر سکی ہے اور ناقدین کے خیال میں اس کی ایک بڑی وجہ اس تنظیم میں شامل بڑے ملکوں پاکستان اور بھارت کے باہمی تنازعات رہے ہیں۔

تاہم این ڈی ایم اے کے چیئرمین ظفر اقبال قادر نے اس اُمید کا اظہار کیا ہے کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے تمام ممالک سنجیدہ اور فعال کردار ادا کریں گے۔
XS
SM
MD
LG