رسائی کے لنکس

فوجی افسران کی برطرفی سے حکومت پر دباؤ بڑھا ہے: مبصرین

  • عشرت سلیم

فائل فوٹو

فائل فوٹو

ڈاکٹر ہما بقائی نے کہا کہ خارجہ اور سلامتی کے متعلق حکمت عملی پر پہلے ہی فوج کا کنٹرول تھا مگر حالیہ مہینوں میں ہونے والے واقعات سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سویلیئن حکومت کی رٹ کم ہوتی چلی جا رہی ہے۔

پاکستان کے مبصرین کا کہنا ہے کہ جمعرات کو فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی طرف سے اعلیٰ فوجی افسران کی برطرفی کی خبر سامنے آنے کے بعد حکومت پر شدید دباؤ پیدا ہوا ہے کہ وہ بھی احتساب کے عمل کو یقینی بنائے۔

عسکری ذرائع کے مطابق جنرل راحیل شریف نے بدعنوانی کے الزامات کے تحت کم از کم چھ اعلیٰ فوجی افسران کو برطرف کیا ہے جن میں ایک لفٹیننٹ جنرل اور ایک میجر جنرل بھی شامل ہیں۔

اگرچہ اس خبر پر ملک کے ذرائع ابلاغ پر تندو تیز بحث جاری ہے، تاہم فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے ’آئی ایس پی آر‘ نے اس پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

تجزیہ کار ایاز امیر کے مطابق فوج کی طرف سے یہ اقدام ہی کافی ہے اور اس کے لیے کسی باضابطہ بیان کی ضرورت نہیں ہے۔

ان کے بقول اس خبر کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کیونکہ اس وقت حکومت پاناما انکشافات سے پیدا ہونے والے سیاسی بحران سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔

’’ایک طرف تو حکومت پاناما لیکس کے بارے میں چھپ رہی ہے، کچھ واضح مؤقف اخیتار ہی نہیں کر سکی۔ تو دوسری طرف جنرل راحیل شریف نے کچھ روز پہلے کوہاٹ میں کہا تھا کہ سب کا احتساب ہونا چاہئے اور ملکی سلامتی کا بھی اس سے ناطہ ہے۔ اس لیے یہ اہمیت اخیتار کر جاتا ہے اور سیاسی قیادت دباؤ میں آتی ہے۔‘‘

ڈاکٹر ہما بقائی نے کہا کہ یہ خبر سامنے آنے کے بعد حکومت پر یقینناً دباؤ بڑھا ہے جس کا اشارہ اس بات سے ملتا ہے کہ جمعرات کو وزیراعظم نے فوراً اپنے قریبی رفقا کا اجلاس طلب کیا اور پاناما لیکس پر کمیشن بنانے اور بدعنونی کے خلاف قانونی سازی کا عندیہ دیا۔

’’میرا ذاتی خیال ہے کہ ہو سکتا ہے کہ بساط نہ پلٹے کیونکہ تحقیقات ہوں گی، چیزیں سامنے آئیں گی، اس میں دو سال اور گزر جائیں گے۔ لیکن اگلے الیکشن میں پاکستان مسلم لیگ نون کے چہرے میں شاید تبدیلی آ جائے، مگر یہ ضرور ہو گا کہ جو جمہوری حکومت ہے وہ مزید کمزور ہو گی۔‘‘

انہوں نے کہا کہ خارجہ اور سلامتی کے متعلق حکمت عملی پر پہلے ہی فوج کا کنٹرول تھا مگر حالیہ مہینوں میں ہونے والے واقعات، بشمول کراچی آپریشن اور جنوبی پنجاب میں چھوٹو گینگ کے خلاف کارروائی سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سویلیئن حکومت کی رٹ کم ہوتی چلی جا رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG