رسائی کے لنکس

شادی پر 10 لاکھ روپے، یعنی یوں کہہ لیجئے 10,000 پاوٴنڈ کا خرچہ آیا۔ یہ وہ رقم ہے جس میں برطانوی جوڑا بہت شاندار طریقے سے شادی رچا سکتا ہے

کہتے ہیں جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں۔ لیکن، بھارت میں ایک ایسے انوکھے ’جوڑے‘ نے شادی رچائی جو آپ نے شاید پہلے کبھی نہ دیکھی ہو اور نہ سنی ہو۔

شادی کا نام آتے ہی ڈھول، تاشے، زرق برق کپڑے پہنے برات کے آگے ناچتے گاتے براتی، آتش بازی اور مزے مزے کے کھانوں کا خیال آتا ہے۔

بھارت میں بھی ایک ایسی ہی شادی کی تقریب ہوئی جس میں یہ سب ’رونق میلہ‘ اور ’ہلا گلا‘ تو ہوا، لیکن یہ سب کچھ دوسری شادیوں سے کچھ الگ اس طرح تھا کہ اس شادی میں برات کا دلہا ’بیل‘ جبکہ دلہن’گائے‘ تھی۔

برطانوی اخبار ’ڈیلی میل‘ نے اس انوکھی اور دلچسپ شادی کا احوال کچھ یوں بتایا ہے کہ شادی پر 10 لاکھ روپے، یعنی یوں کہیئے 10,000 پاوٴنڈ کا خرچہ آیا۔ یہ وہ رقم ہے جس میں
برطانوی جوڑا بہت شاندار طریقے سے شادی رچا سکتا ہے۔
یہ شادی کروائی کس نے اور کیوں؟

تو اس کا جواب یہ ہے کہ گائے ’گنگا‘ اور بیل ’پرکاش‘ کا بیاہ رچانے والے تھے ریاست مدھیہ پردیش کے شہراندور کے قریبی رہنے والے گنگا کے مالک گوپال پٹواری۔

گوپال کا کہنا تھا کہ شادی کا مقصد قدرتی آفات مثلاً ژالہ باری، طوفان سے فصلوں کو محفوظ رکھنا ہے۔ اس شادی سے ہمارے گاوٴں میں ’شانتی بنی رہے گی‘۔

علاقے کے بیشتر کاشت کار لوبیا اور روئی اگاتے ہیں اور ان کی زندگی کا دارومدار ہی اچھی فصل پر ہے۔

گنگا اور پرکاش کی شاہانہ شادی میں گاوٴں اور قریبی علاقوں کے 5000افراد نے شرکت کی۔ گنگا کو خصوصی طور پر تیار کردہ دلہنوں والی ساڑی، ہار اور پھول پہنائے گئے اور میک اپ بھی کیا گیا۔

دوسری جانب دلہا یعنی ’پرکاش‘ کی شان بھی نرالی تھی۔ آراستہ، پیراستہ بگھی میں ملٹی کلرڈ شیروانی اور اورنج پگڑی میں پرکاش بھی کچھ کم خوبصور ت نہیں لگ رہے تھے۔

شادی کی تمام رسومات سادھوجی نے روایتی انداز میں ادا کیں۔ ان رسوما ت میں ہلدی، گنیش پوجا، منڈپ اور اگنی کے گرد پھیرے بھی شامل تھے۔

شادی کے بعد پٹواری جی خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے۔ پھیروں کے بعد ناچ گانے اور کھانے پینے کا سلسلہ کئی گھنٹوں تک چلا جس میں سب نے دل کھول کر حصہ لیا۔
XS
SM
MD
LG