رسائی کے لنکس

جوزف ٹاؤن ویرانی اور بربادی کی تصویر

  • افضل رحمٰن

جوزف ٹاؤن، لاہور

جوزف ٹاؤن، لاہور

’وہاں پولیس کھڑی تھی۔ لیکن، افسوس کی بات یہ ہے کہ جو مظاہرے ہوئے اُن پر تو ہوائی فائرنگ کی گئی اور آنسو گیس کا استعمال ہوا، مگر جو لوگ اِن گھروں کو جلا رہے تھے اُن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی‘: سربراہ، حقوقِ انسانی کمیشن

لاہور میں مسیحیوں کی بستی، جوزف ٹاؤن ویرانی اور بربادی کی تصویر بنی ہوئی ہے۔

سجاد افضل مسیحیوں کی اِسی بستی کے رہائشی ہیں۔

جو 150 سے زیادہ مکانات ہفتے کے روز یہاں مشتعل ہجوم نے جلا ڈالے، سجاد افضل کا گھر اُن میں شامل تھا۔ مگر، آج وہ دکھی ہونے کے ساتھ ساتھ حیران اور پریشان بھی دکھائی دیتے ہیں۔

لاہور: ’وائس آف امریکہ‘کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے، سجاد افضل نے کہا کہ اُن کی بستی تو بربادی کی تصویر بن گئی ہے، مگر جتنا دکھ یہإں کے مکینوں کی دلوں میں ہے، اُس کو کوئی دوسرا جان ہی نہیں سکتا۔

اُنھوں نے بتایا کہ اُن سے گھر یہ کہہ کر انتائی اجلت میں خالی کرائے گئے کہ اُن کی پولیس حفاظت کرے گی۔

اپنے تاثرات درج کراتے ہوئے، ایک خاتون نے بتایا کہ، ’کوئی بیٹھنے تک کے لائق جگہ نہیں بچی۔ کَل سارا دِن ہم لوگ کوڑے کے اوپر بیٹھے رہے‘۔

حکومتِ پنجاب نے اعلان کیا ہے کہ وہ جتنے متاثرین ہیں اُن کو امداد بھی دے گی اور دنوں میں تباہ ہونے والے گھروں کی تعمیرِ نو کردے گی۔

حقوقِ انسانی کمیشن کی چیرمین، زہریٰ یوسف کا کہنا تھا کہ،’گھر بنوانے کے لیے دو یا پانچ لاکھ روپے کے چیک دینے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ لوگوں کی زندگی اجڑ کر رہ گئی ہے۔ وہ اب بھی خوف کا شکار ہیں۔ یہ کوئی حل نہیں ہے، اور امید ہے اِن لوگوں کو انصاف ملے گا‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ، ’وہاں پولیس کھڑی تھی۔ لیکن، افسوس کی بات ہے کہ جو مظاہرے ہوئے اُن پر تو ہوائی فائرنگ کی گئی، آنسو گیس کا استعمال ہوا، مگر جو لوگ اِن گھروں کو جلا رہے تھے اُن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی‘۔

زہریٰ یوسف کا کہنا تھا کہ ماضی میں اس قسم کے واقعات پر حکومت اگر کوئی مؤثر کارروائی کرتی ہے تو پھر مستقبل میں ایسے واقعات کا سدِ باب کیا جاسکتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ 2009ء میں گوجرہ میں ہونے والے اِسی نوعیت کے واقع میں حکومتِ پنجاب نےجو کارروائی کی، ’اُسے کسی طور بھی مؤثر نہیں کہا جاسکتا‘۔
XS
SM
MD
LG