رسائی کے لنکس

گذشتہ دو ماہ کے دوران سینکڑوں کشتیاں اُن روہنگیا مسلمانوں کو لے کر سرحدی قصبے، تیکناف پہنچی ہیں، جو میانمار سے فرار ہو رہے ہیں۔ اگرچہ اُن میں سے کچھ کو سرحدی خطوں سے واپس بھیج دیا گیا، تاہم اُن میں سے بہت سوں کو مقامی مسلمانوں نے خوراک اور امداد فراہم کی

اسٹیو سینفرڈ/شہناز عزیز

بنگلہ دیش کے ایک سرحدی علاقے تینکاف میں، جو میانمار کی سرحد کے نزدیگ واقع ہے، بہت سے افراد روہنگیا نسل کے اُن پناہ گزینوں کے مصائب سے ہمدردی رکھتے ہیں جو میانمار سے فرار ہو کر یہاں آرہے ہیں۔

یہ علاقہ میانمار کی رخائین ریاست میں ظلم و ستم کی وجہ سے فرار ہونے والے مسلمانوں کے لیے، بنگلہ دیش میں داخل ہونے کا پہلا پڑاؤ ہے۔

بنگلہ دیش کے دریائے نیف کے ساحلوں پر آباد ماہی گیروں کے علاوہ اور بھی بہت سے افراد ان پانیوں پر سفر کرتے ہیں۔

گذشتہ دو ماہ کے دوران سینکڑوں کشتیاں اُن روہنگیا مسلمانوں کو لے کر سرحدی قصبے، تیکناف پہنچی ہیں، جو میانمار سے فرار ہو رہے ہیں۔

اگرچہ اُن میں سے کچھ کو سرحدی خطوں سے واپس بھیج دیا گیا، تاہم اُن میں سے بہت سوں کو مقامی مسلمانوں نے خوراک اور امداد فراہم کی، جن ماہی گیر میں شمس العالم بھی شامل ہیں۔

وہ اپنے ساتھ غذا، کپڑے اور جو تھوڑا بہت سامان اٹھا سکتے تھے لے کر آئے ہیں۔ اُن کے پاس اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے، اور کچھ تو بالکل خالی ہاتھ ہیں۔ وہ انتہائی تھکے ہارے اور فاقہ زدہ نظر آتے ہیں۔

اس علاقے میں واقع چھوٹے چھوٹے دیہات، نئے آنے والوں کی عارضی پناہ گاہ ہیں اور پناہ گزیں کیمپوں میں جانے سے پہلے ان کا یہاں عبوری پڑاؤ ہے۔

ایک مقامی سیاست دان، حاضر احمد خود بھی روہنگیا ہیں۔ برسوں پہلے برما سے یہاں آئے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ اِن افراد کو اس طرح تباہ حال دیکھ کر بہت صدمہ ہوتا ہے۔ تاہم، مجھے معلوم نہیں کہ کیا کیا جاسکتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ہمیں میانمار میں موجود روہنگیا اقلیت کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے با اختیار افراد کی ضرورت ہے۔

تفصیل درج ذیل آڈیو رپورٹ میں ملاحظہ فرمائیے:

آپ کی رائے

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG