رسائی کے لنکس

اردو نثر کا ایک اور چراغ گل ہوگیا

  • اسد نذیر

’’بیسویں صدی میں میری افسانہ نگاری اپنے اختتام کو پہنچ گئی تھی اور اکیسویں صدی میرے لیے ایک چیلنج کا درجہ رکھتی ہے”۔ چند برس قبل، انتظار حسین مرحوم کی ’وائس آف امریکہ‘ کے ساتھ ایک خصوصی گفتگو

انتظار حسین اردو کے ناول نگار، افسانہ نگار، تنقید نگار اور کالم نگار تھے۔ انھوں نے ایک داستان اور آپ بیتی طرز پر دو کتابیں لکھیں۔ حکومت فرانس نے ان کو ستمبر 2014ء میں ’آفیسر آف دی آرڈر آف آرٹس اینڈ لیٹرز‘ عطا کیا۔ انتظار حسین کا انتقال 2 فروری 2016ء کو 92 سال کی عمر میں لاہور کے ایک اسپتال میں ہوا۔

’وائس آف امریکہ‘ نے اتوار سات فروری کو اپنے ادبی پروگرام ’صدا رنگ‘ میں اپنے عہد کے نامور ادیب کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اس میں پاکستان اور امریکہ کے نامور ادیبوں نے مرحوم کی ادبی خدمات کا شاندار الفاظ میں اعتراف کیا اور کہا کہ ’’انتظار حسین اردو افسانے کا ایک معتبر نام ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے اسلوب اور بدلتے لہجوں کے باعث پیش منظر کے افسانہ نگاروں کے لیے بڑا چیلنج تھے۔‘‘

شرکا کا کہنا تھا کہ انتظار حسین کی اہمیت یوں بھی ہے کہ انہوں نے داستانوی فضا، اس کی کردار نگاری اور اسلوب کا اپنے عصری تقاضوں کے تحت برتاؤ کرنا چاہا۔

اُنھوں نے کہا کہ انتظار حسین کی تحریروں کی فضا ماضی کے داستانوں کی بازگشت ہے۔ وہ علامتی اور استعاراتی اسلوب کو نت نئے ڈھنگ سے استعمال کرنے والے افسانہ نگار تھے۔ لیکن، اپنی تمام تر ماضی پرستی اور مستقبل سے فرار اور انکار کے باوجود ان کی تحریروں میں ایک عجیب طرح کا سوز اورحسن ہے۔

انتظار حسین نے اساطیری رجحان کو بھی اپنی تحریروں کا حصہ بنایا۔ ان کے افسانوں کے اسرار معلوم کرنے کے لیے وسیع مطالعہ کرنا بھی لازمی ہے۔

ہجرت کے حوالے سے ایک خاص طرح کا تناؤ انتظار حسین کے ہاں جاری و ساری ہے۔ اس صورت حال سے وہ خود کو منطقی طور پر الگ نہیں کر سکے۔

انہیں خراجِ تحسین پیش کرنے والوں میں امریکہ سے وسکانسن یونیورسٹی کے سابق پروفیسر، محمد عمر میمن، افسانہ نگار ڈاکٹر سعید نقوی اور ڈاکٹر فیروز عالم، پاکستان سے پروفیسر خاجہ محمد ذکریا، جناب آصف فرخی، ڈاکٹر تحسین فراقی، جناب اصغر ندیم سیّد اور جناب امجد اسلام امجد شامل تھے۔

اسی پروگرام میں مرحوم انتظار حسین کا وہ خصوصی انٹرویو بھی شامل تھا جو آج سے کئی برس پہلے انہوں وائس آف امریکہ کی اردو سروس کو دیا تھا۔

اِس یادگار انٹرویو میں، انہوں نے کہا تھا کہ انہوں نے ’’اپنے بزرگوں سے چودھویں صدی کے بارے میں جو سنا تھا وہ دراصل اکیسویں صدی کے بارے میں تھا۔ میرے لیے اکیسویں صدی دراصل چودھویں صدی ہے۔ میں نے جو کچھ لکھا وہ بیسویں صدی میں لکھا اور یہ چودھویں صدی اس وقت آئی ہے جب میری افسانہ نگاری اپنے اختتام کو پہنچ رہی ہے۔ اب مجھے احساس ہوتا ہے کہ میں شائید اکیسویں صدی کے ساتھ کوئی انصاف نہیں کر سکوں گا۔ اور اب یہ صدی میرے لیے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ ایک ایسا وقت ہے جب میں اپنا کام مکمل کر چکا ہوں‘‘۔

اس انٹرویو کے مزید اقتباسات سننے کے لیے، آڈیو رپورٹ پر کلک کیجئیے:

XS
SM
MD
LG