رسائی کے لنکس

'اسکائی نیوز' کی خبروں کے مطابق، اسٹیج پر اپنے خطاب سے پہلےصادق خان نے لیبر جماعت کے حامیوں کی تالیوں کی گونج میں اپنا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ ''مائی نیم از صادق خان'' اور ''میں لندن کا میئر ہوں''

نئے میئر صادق خان نے لندن کے وارک کے گرجا گھر میں حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے بعد باضابطہ طور پر داراحکومت لندن کے میئر کا عہدہ سنبھال لیا ہے۔

تقریب حلف برداری میں لوگوں نے کھڑے ہو کر لندن کے نئے میئر کا استقبال کیا۔ اس موقع پر، وہاں لیبر پارٹی کےسابق رہنما ایڈ ملی بینڈ بھی موجود تھے۔

بیرونس ڈورین لارنس کی جانب سے اسٹیج پر صادق خان کا تعارف پیش کیا گیا، جن کے بیٹے کو 1993ء میں ایک نسل پرست حملے میں قتل کردیا گیا تھا۔

'اسکائی نیوز' کی خبروں کے مطابق، اسٹیج پر اپنے خطاب سے پہلےصادق خان نے لیبر جماعت کے حامیوں کی تالیوں کی گونج میں اپنا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ ''مائی نیم از صادق خان'' اور ''میں لندن کا میئر ہوں''۔

صادق خان نے کہا کہ مجھے پچھلے 24 گھنٹوں میں یہ یقین نہیں ہوسکا ہے ہم آج یہاں ساوتھ وراک میں ہیں، کیونکہ میں آج سے لندن میئر کے عہدے پر کام کروں گا۔

انھوں نے مزید کہا کہ میں نے کبھی اپنے خواب میں بھی یہ نہیں سوچا تھا کہ میں آج یہاں لندن میئر کی حیثیت سے کھڑا ہوں گا۔

نئے میئر نے ہنستے ہوئے یہ بھی کہا کہ ''ہو سکتا ہے شاید آپ یہ نہیں جانتے ہوں لیکن میں ایک کونسل کے مکان میں پلا بڑھا ہوں، جو یہاں سے زیادہ دور نہیں ہے۔'' یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ انتخابی مہم کےدوران ان کے پس منظر پر بار بار توجہ دلائی گئی تھی۔

جس وقت پاکستانی نژاد برطانوی سیاست دان لندن کے پہلے مسلمان میئر کی حیثیت سے برطانیہ کی تاریخ میں ایک اہم باب رقم کرنے والے تھے، ان کے ساتھ ان کی اہلیہ سعدیہ، بیٹیاں اور والدہ بھی موجود تھی۔

ان کے والد جنھوں نے لندن میں ایک بس ڈرائیور کی حیثیت سے زندگی کا سفر شروع کیا تھا وہ اب اس دنیا میں نہیں ہیں اور صادق خان نے لندن میئر بننے کے بعد شکریہ کی تقریر کرتے ہوئے اس بات پر دکھ کا اظہار کیا تھا کہ ان کی اس عظیم کامیابی کو دیکھنے کے لیے آج ان کے والد حیات نہیں۔

بیرونس ڈورین لارنس نے ان کے تعارف کے حوالے سے کہا کہ ''یہ ایک بہت ہی شاندار دن ہے اور میں یہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ لندن کا میئر نسلی پس منظر سے ہوسکتا ہے۔ یہ اس بات کی ایک حیرت انگیز علامت ہےکہ لندن شہر بہت آگے نکل چکا ہے۔''

انھوں نے مزید کہا کہ ''ایک شہر جس نے خوف کے بجائے اتحاد کا انتخاب کیا ہے ایک شہر جس نے تمام لندن والوں کا میئر منتخب کیا ہے۔''

لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک ایم پی ڈیوڈ لامے نے پیشن گوئی کی کہ ''خان کی فتح نے نسلی اقلیتی پس منظر سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کے لیے ٹین ڈاوننگ کا راستہ ہموار کیا ہے۔''

انھوں نے مزید کہا کہ ''اگر کبھی ہمیں نسلی پس منظر سے ایک وزیر اعظم ملتا ہے تو یہ صرف اس وجہ سے ہوگا کیونکہ صادق خان نے کامیاب ہوکر دکھایا ہے''۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ صادق خان نے تصدیق کی ہے کہ وہ ٹوٹنگ کے ایم پی کی حیثیت سے اپنی نشست برقرار رکھیں گے۔ اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ لندن کی تمام کمیونٹیز کی نمائندگی کرنا چاہتےہیں۔

لندن میئر کے انتخابات میں صادق خان نے پہلی اور دوسری ترجیح کے ووٹوں کی گنتی کے بعد 57 فیصد ووٹوں کے ساتھ کامیابی حاصل کی ہے۔ انھوں نے مجموعی طور پر 1,310,143 ووٹ حاصل کئے جو کہ براہ راست منتخب میئر کی تاریخ میں سب سے بڑا ٹرن آوٹ ہے۔

ان کے مقابلے میں لندن میئر کے ایک اہم دعویدار زیک گولڈ اسمتھ نے 45.6پہلی اور دوسری ترجیح کے ووٹ حاصل کئے۔ مجموعی طور پر انھوں نے 994,614 ووٹ حاصل کئے۔

کنزرویٹیو جماعت کے ایک اہم رہنما اور وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے سابق حکمت عملی کے ڈائریکٹر اسٹیو ہلٹن نے 'ڈیلی میل' سے کہا کہ زیک گولڈ اسمتھ نے کنزرویٹیو پر واپس ایک بری جماعت کا لیبل لگادیا ہے۔

XS
SM
MD
LG