رسائی کے لنکس

27 جذبات کے ایک سیٹ میں سے اداسی کا دورانیہ سب سے طویل تھا جس کی طوالت شرمندگی، حیرت، خوف، نفرت، بوریت، چبھن، بے زارای، خوشی اور اطمینان جیسے جذبات کے مقابلے میں سب سے زیادہ تھی

زندگی بیک وقت دکھ اور سکھ کی دھوپ چھاؤں ہے جہاں کوئی بھی موسم زیادہ دیر تک نہیں ٹھہرتا ہے اور ایک انسان ہونے کے ناطے ہم سب تبدیلی اور تبدیلی کے عمل پر جذباتی ردعمل ظاہر کرتے ہیں اسی لیے علم نفسیات کے ماہر کہتے ہیں کہ انسانی جبلتوں اور جذبات کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ایک نئی تحقیق میں تفتیش کاروں نے دریافت کیا ہے کہ انسان کےخوشگوار اور ناخوشگوار جذبات میں سے اداسی کا دورانیہ سب سے طویل ہوتا ہے جو دیگر تمام جذبات کے مقابلے میں انسان کے اندر زیادہ دیر تک برقرار رہتا ہے۔

ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ ہمیں شرمندگی، حیرت، حسد وجلن، خوشی اور بوریت جیسے جذبات سے کہیں زیادہ اداسی زیادہ دیر تک تنگ کرتی ہے اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ کسی بھی دوسرے عارضی جذبات کی نسبت اداسی کا دورانیہ 240 گنا زیادہ وقت تک کے لیے ہمارے اندر برقرار ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ اگریہ پوچھا جائے کہ اداسی کی مدت اتنی طویل کیوں ہوتی ہے تو شاید اس بات کا جواب کافی پیچیدہ ہو لیکن اس کی ایک منطقی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اکثرحادثات کے طور پر رونما ہونے والے واقعات جن میں کسی قریبی چیز کو کھو دینے کا دکھ یا پھر کسی قریبی عزیز کے انتقال کا صدمہ انسان کے لیے ایک تکلیف دہ تجربہ ہے خاص طور پر اپنے عزیز کی موت کے بعد انسان غم کے مختلف مراحل سے گزرتا ہے اور یہ تمام مراحل اپنا وقت لیتے ہیں۔

بلجئیم کی 'یونیورسٹی آف لیووین' سے منسلک تفتیش کار پروفیسر فلپ ورجائین اور پروفیسر سیسکیا لیوریجسن نے کہا کہ دراصل اداسی کا طویل دورانیہ ایک شخص کو اس واقعہ پر غور کرنے اور اس سے نمٹنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

بقول تفتیش کار حادثہ رونما ہو جانے کے بعد اکثر لوگ کافی دنوں تک بے یقینی، جھنجھلاہٹ اور غصے جیسی کیفیت کا شکار رہتے ہیں تاہم وقت کے ساتھ ساتھ یہ اداسی کا طویل دورانیہ انھیں اس غم کو جھیلنے کے لیے تیار کر دیتا ہے جس کے بعد آہستہ آہستہ اداسی کم ہو جاتی ہے اور انسان اس غم سے سمجھوتہ کرتے ہوئے آئندہ کے بارے میں سوچنے لگتا ہے۔

سائنسی جریدے 'اسپرینرس جرنل آف موٹیویشن اینڈ ایموشن' میں شائع ہونے والی تحقیق میں پہلی بار اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ کیوں کچھ جذبات دوسرے جذبات کے مقابلے میں زیادہ طویل دورانیے کے ہوتے ہیں۔

محققین نے 17 سالہ 233 ہائی اسکول کے بچوں سے ایک سوالنامے میں ان کے حالیہ جذباتی صدموں کے بارے میں رپورٹ کرنے کے لیے کہا۔ ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ ایسے جذبات پر قابو پانے کے لیے انھوں نے کونسی حکمت عملی اختیار کی تھی۔

نتیجے سے معلوم ہوا کہ تمام اقسام کے جذبات کے درمیان بامعنی اختلافات موجود تھے۔

27 جذبات کے ایک سیٹ میں سے اداسی کا دورانیہ سب سے طویل تھا جس کی طوالت شرمندگی، حیرت، خوف، نفرت، بوریت، چبھن، بے زارای، خوشی اور اطمینان جیسے جذبات کے مقابلے میں سب سے زیادہ تھی جبکہ دلچسپ بات یہ تھی کہ بوریت کا جذبہ بھی کم دورانیے والے جذبات میں شامل تھا۔

مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ اداسی کا جذبہ 120 گھنٹوں تک برقرار رہا جبکہ اس کے مقابلے میں نفرت اور شرمندگی جیسے جذبات 30 منٹ کے بعد غائب ہو گئے اسی طرح امید نا امیدی، ڈپریشن جیسے جذبات کا دورانیہ 24 گھنٹوں پر مشتمل تھا۔

نفرت کا دورانیہ 60 گھنٹوں تک برقرار رہا جبکہ خوشی کے جذبات جو بہت تیزی سے گزرتے معلوم ہوتے ہیں ان کی طوالت محض 35 گھنٹوں تک محدود تھی۔

محققین نے کہا کہ حسد اور جلن کا جذبہ 15 گھنٹوں تک انسان کو اپنے زیر اثر رکھ سکتا ہے اس کے مقابلے میں اطمینان کا جذبہ 8 گھنٹوں تک مطمین رکھ سکتا ہے اسی طرح غرور، فخر،غصہ، بے زاری جیسے جذبات کا دورانیہ 1 گھنٹے سے 5 گھنٹے تک لمبا ہو سکتا ہے۔

پروفیسر ورجائین اور پروفیسر لیوریجسن نے کہا کہ حتیٰ کہ بوریت کے وقت جب لگتا ہے کہ وقت آہستہ آہستہ گزر رہا تو درحقیقت یہ بوریت کا وقت بھی زیادہ دیر تک نہیں رکتا ہے اسی طرح بے چینی یا تھکاوٹ کا دورانیہ خوف کے مقابلے میں طویل ہوتا ہے جبکہ انسان کے اندر جرم کا احساس شرمندگی کے مقابلے میں زیادہ دیر تک برقرار رہتا ہے۔

ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ کم دورانیہ والے جذبات عام طور پر انسان کے ساتھ ہونے والے چھوٹے موٹے واقعات کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں جن کی اہمیت کم تھی لیکن دوسری طرف دیرپا جذبات ایسے واقعات کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں جن کے مضمرات سے ایک شخص کی زندگی میں بہت سے خدشات جنم لیتے ہیں۔

ماہرین نے کہا کہ اس قسم کے مضمرات صرف وقت کے ساتھ ساتھ ہی ظاہر ہوتے ہیں اور یہ اداسی اس وجہ سے بھی برقرار رہتی ہے کیونکہ ایک انسان بار بار اس واقعہ اور اس کے نتائج کو دہراتا ہے جس سے اداسی کے جذبے کو مزید تقویت ملتی ہے۔

XS
SM
MD
LG