رسائی کے لنکس

افریقہ میں شدت پسندوں کی بڑھتی ہوئی کارروائیاں

  • سکاٹ سٹیارنز

افریقہ میں شدت پسندوں کی بڑھتی ہوئی کارروائیاں

افریقہ میں شدت پسندوں کی بڑھتی ہوئی کارروائیاں

افریقہ میں القاعدہ سے وابستہ دہشت گرد ساحل کے علاقے میں بڑی بڑی کمپنیوں کے مفادات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کی یہ کارروائیاں عام لوگوں میں اپنی مقبولیت بڑھانے کی مہم کا حصہ ہیں۔ علاقے کی حکومتیں اس خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی کوششوں کو مربوط کرنے کی جدو جہد کر رہی ہیں۔

اسلامی مغرب میں القاعدہ کی توجہ فوجی ٹھکانوں پر بمباری اور سیاحوں اور غیر ملکی امدادی کارکنوں پر مرکوز رہتی ہے ۔ لیکن حال ہی میں ٹوگو اور مدغاسکر کے تعمیراتی ماہرین اور پانچ فرانسیسی انجینئروں کے اغوا سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ گروپ اپنی تشدد کی مہم کو وسعت دے رہا ہے اور اس کامقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ وہ علاقے کو غیر ملکیوں کے تجارتی استحصال سے بچانا چاہتا ہے ۔Niger میں نیوکلیئر توانائی کی فرانسیسی فرم، Areva ، ایک بہت بڑی کان سے یورینیم نکال رہی ہے ۔ اسلامی مغرب میں القاعدہ کے ترجمان صلاح ابو محمد کاکہنا ہے کہ یورینیم ایک انتہائی قدرتی وسیلہ ہے جو فرانس کئی عشروں سے لوٹ رہا ہے ۔

وہ کہتے ہیں کہ غیر ملکی کمپنیوں کو جو ساحل کے قدرتی وسائل کا استحصال کر رہی ہیں، معلوم ہونا چاہیئے کہ آزادی کے لیے لڑنے والے مسلمانوں کی نظر میں ان پر حملہ کرنا جائز ہے ۔ ان کمپنیوں کو فوری طور پر چلا جانا چاہیئے کیوں کہ وہ غیر قانونی طور پر اس علاقے کے وسائل کو ختم کر رہی ہیں۔

اسلامی مغرب میں القاعدہ کی تنظیم جو اپنے مختصر نام AQIM سے بھی جانی جاتی ہے ، 1992 میں الجزائر سے شروع ہوئی۔ سیاسی تجزیہ کارJoseph Kirschke کہتے ہیں ’’یہ لوگ ایک انتہائی خوفناک خانہ جنگی کی باقیات ہیں جسے ختم ہوئے صرف دس سال ہوئےہیں اوروہ اپنی ساکھ بنانے کی سخت کوشش کر رہے ہیں ۔الجزائر میں جو تشدد ہوا اس میں یہ لوگ خود کو مظلوم سویلین آبادی کا محافظ بنا کر پیش کرتے ہیں۔‘‘

AQIM کہتی ہے کہ اس نے اسپین کے تین امدادی کارکنوں کو اس لیے اغوا کیا کیوں کہ اسپین نیٹو اتحاد کا رکن ہے جو غیر ملکی فوجی جارحیت کی نمائندہ ہے ۔ AQIM نے ایک فرانسیسی یرغمال کو مالی میں ہلاک کر دیا ۔ فرانس اور ماریطانیہ کے فوجیوں نے اس شخص کو چھڑانے کی ناکام کوشش کی تھی۔

ایک بیان میں جو الجزیرہ ٹیلیویژن نیٹ ورک پر پڑھا گیا، القاعدہ گروپ نے فرانس اور ماریطانیہ کے چھاپے کے دوران اپنے چھ جنگجوؤں کے ہلاک کیے جانے کا انتقام لینے کا عہد کیا اور ساحل کے شہریوں سے کہا کہ وہ فرانس ور اس کے اتحادیوں کے خلاف انتقامی کارروائی میں حصہ لیں۔

اسلامی مغرب میں القاعدہ پر فوجی دباؤ بڑھ رہا ہے۔سینکڑوں فرانسیسی کمانڈوز اغوا کیے ہوئے فرانسیسی یورینیم انجینیئر کی تلاش میں مدد دے رہے ہیں۔ گذشتہ ہفتے ماریطانیہ کے ایک فوجی ٹرک نے مالی کے شہر ٹمبکٹو کے نزدیک AQIM کے سپلائی کنوائے پر حملہ کیا۔ سیاسی تجزیہ کار Isselmou Ould Mustapha کہتے ہیں کہ اب ماریطانیہ نے القاعدہ کو اپنا دفاع کرنے پر مجبور کر دیا ہے ۔ اب یہ لڑائی ان علاقوں میں ہو رہی ہے جہاں پہلے القاعدہ من مانی کرتی رہتی تھی۔ ماریطانیہ کی فوج اب ان کا پیچھا کر رہی ہے۔ مغربی افریقہ کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندےSaid Djinnit کہتے ہیں کہ اسلامی مغرب میں القاعدہ کا زور توڑنے کے لیے بین الاقوامی مدد کے ساتھ علاقائی سطح پر تعاون کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہے ۔’’آپ ان غریب ملکوں سے جن کی حکومتیں، ادارے اور بنیادی ڈھانچے کمزور ہیں کس طرح یہ توقع کر سکتے ہیں کہ وہ اتنے وسیع علاقوں کو جن میں خانہ بدوش اور قدیم ثقافتوں والے لوگ رہتے ہیں، اور جو کسی قسم کی تبدیلی کو پسند نہیں کرتے، موئثر طریقے سے کنٹرول کریں؟‘‘

Djinnit کہتے ہیں کہ صرف مربوط، علاقائی طریقے سے ہی القاعدہ کو برکینا فاسو جیسے ملکوں میں پھیلنے اور شمالی نائیجیریامیں انتہا پسند عناصر کے ساتھ گٹھ جوڑ کرنے سے روکا جا سکتا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’مجھے ہمیشہ یہ خوف لگا رہتا ہے کہ یہاں ساحل کے چھوٹے سے علاقے میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ مغربی افریقہ کے دوسرے علاقوں تک پھیل جائے گا۔‘‘

اسلامی مغرب میں القاعدہ کے خلاف جنگ میں علاقائی تعاون میں اور زیادہ پیش رفت نہ ہونے کی وجہ داخلی سکیورٹی میں کمزوری اور بد اعتمادی ہے ۔ یہ صورت حال خاص طور سے مالی میں موجود ہے ۔ الجزائر، برکینا فاسو، چاڈ، لیبیا، مالی ، ماریطانیہ اور نائجر ، القاعدہ کا سامنا کرنے کے لیے ایک مشترکہ منصوبہ تیار کر رہے ہیں۔ خیال ہے کہ الجزائر کے ساحلی علاقوں سے نکالے جانے کے بعد، القاعدہ اب الجزائر، مالی، اورنائجر کی سرحدوں کے ساتھ خود کو دوبارہ منظم کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔

XS
SM
MD
LG