رسائی کے لنکس

سلیم شہزاد کیس: تحقیقاتی کمیشن تشکیل، نامزد جج کا انکار

  • یاسر منصوری

سلیم شہزاد کیس: تحقیقاتی کمیشن تشکیل، نامزد جج کا انکار

سلیم شہزاد کیس: تحقیقاتی کمیشن تشکیل، نامزد جج کا انکار

پاکستان یونین آف جرنلسٹس ( پی ایف یو جے) کی اپیل پر ایک روز قبل وفاقی دارالحکومت میں پارلیمان کے سامنے صحافیوںٕ نے احتجاجی دھرنہ شروع کیا تھا جِس پر حکومت نے اُن کا مطالبہ مانتے ہوئے صحافی سلیم شہزاد کے قتل کی تحقیقات سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج، جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں کرانے کا اعلان کیا۔

لیکن، سرکاری اعلان کے چند گھنٹوں بعدہی صورت ِحال ایک بار پھر غیر یقینی کا شکار ہوگئی، جب سپریم کورٹ کے نامزد جج جسٹس ثاقب نثار نے تحقیقاتی کمیشن کا حصہ بننےسے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ چیف جسٹس کی مرضی کےبغیر کسی جج کی نامزدگی نہیں ہوسکتی ۔

اِس سے قبل، وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری کیے گئے اعلامیے میں بھی یہ واضح کیا گیا تھا کہ جسٹس ثاقت نثار کی تقرری سپریم کورٹ کی منظوری سے مشروط ہوگی۔کمیشن کے دیگر اراکین میں وفاقی شریعت کورٹ کے چیف جسٹس آغا رفیق احمد خان اور پی ایف یو جے کے صدر پرویزشوکت شامل ہیں۔

پاکستان میں صحافیوں کی نمائندہ تنظیم، پی ایف یو جے کے صدر پرویز شوکت نے ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو میں جسٹس ثاقت نثار کے انکار سے پیدا ہونے والی صورتٕ ِ حال پر اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ تکنیکی باتیں ہیں۔ اُن کے الفاظ میں: ’ہم کوشش کررہے ہیں کہ اِس ’اِشو‘ پر بھی سپریم کورٹ سے رجوع کریں اور حکومت سے بھی۔ مجھے امید ہے کہ یہ معاملہ طے ہوجائے گا۔‘

تحقیقاتی کمیشن کی تشکیل سے متعلق سرکاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اُس کے اراکین سلیم شہزا د کے اغوا ور قتل کے محرکات اور اِن سے جڑے حالات و واقعات کی چھ ہفتوں میں تفتیش مکمل کرنے کے علاوہ اِس واقعے میں ملوث مشتبہ افراد کی نشاندہی بھی کریں گے۔

اسلام آباد سے 29مئی کو پراصرار طور پر لاپتا ہونے کے دو روز بعد ’ایشیا ٹائمز آن لائن‘ کے پاکستان میں بیورو چیف سلیم شہزاد کی لاش منڈی بہاؤالدین کے نواح میں ایک نہر سے ملی تھی۔ مقتول صحافی کے قریبی رشتہ داروں اور پولیس کا کہنا تھا کہ سلیم شہزاد کی لاش پر تشدد کے متعدد نشانات موجود تھے۔

حکومت کی جانب سے تشکیل دیے گئے تحقیقاتی کمیشن کے دائرہٴ کار میں مستقبل میں صحافیوں کے خلاف تشدد کے واقعات کی روک تھام کے لیے سفارشات تجویز کرنا بھی شامل ہیں۔

سرکاری اعلان کے مطابق، کمیشن نے فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کرکے آئندہ چھ ہفتوں میں اُن کے نتائج اور تجاویز پر اپنی رپورٹ مرتب کرنی ہے۔

XS
SM
MD
LG