رسائی کے لنکس

سیمسنگ، ایپل کو ایک ارب ڈالر کا جرمانہ ادا کرے: امریکی عدالت

  • واشنگٹن

سیمسنگ نے کہا ہےکہ اس فیصلے کو ایپل کی فتح نہیں سمجھنا چاہیئے، چونکہ یہ فیصلہ تنوع کی رفتار کو متاثر کرے گا اورممکنہ طور پر قیمتوں میں اضافے کا باعث بنے گا

ایسے میں جب امریکہ اور جنوبی کوریا کے ٹیکنالوجی کےمیدان میں موجود دو طاقت ور ترین اداروں کے درمیان کثیر ارب ڈالرمالیت کی قانونی چارہ جوئی جاری ہے، ایک امریکی جج نے فیصلہ دیا ہے کہ جنوبی کوریا کی ’سیمسنگ الیکٹرنکس‘ نے امریکی کمپنی ’ایپل‘ کی ملکیت موبائل آلات سے متعدد پیٹنٹس کی خلاف ورزی کی ہے۔

کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والی جیوری نے جمعے کے روز ایپل کےدعوے کےحق میں فیصلہ دیتے ہوئے، اُسے ایک ارب ڈالر سے زائد مالیت کا ہرجانہ دیے جانے کا مستحق قرار دیا۔

ایک بیان میں ایپل کی ایک خاتون ترجمان نے کہا کہ شواہد بتاتے ہیں کہ سیمسنگ نے ’ہماری سوچ سے کہیں زیادہ درجے کی نقالی سے کام لیا‘۔

جواب میں، سیمسنگ نے کہا ہےکہ فیصلے کو ایپل کی فتح نہیں سمجھنا چاہیئے، لیکن یہ امریکی صارف کے لیے ایک نقصان دہ امر ضرور ہے، اور متنبہ کیا کہ یہ فیصلہ تنوع کی رفتار کو متاثر ضرور کرے گا اور ممکنہ طور پر قیمتوں میں اضافے کاباعث بنے گا۔

امکان ہے کہ سیمسنگ فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرے گا۔

اس سے قبل، جمعے کو جنوبی کوریا کی ایک عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ ایپل اور سیمسنگ دونوں ہی نے پیٹنٹس کی خلاف ورزی کی ہے۔

سیئول کی عدالت کا کہنا تھا کہ ایپل نے سیمسنگ کے دو وائر لیس پیٹنٹس کی خلاف ورزی کی، جب کہ ایپل کی ڈزائن کے ایک عدد پیٹنٹ کی نقالی کی گئی ہے۔ عدالت نے دونوں فریقوں پر جنوبی کوریا میں ایک دوسرے کی مصنوعات کی فروخت پر ایک محدود پابندی عائد کردی ہے۔

صنعت سے وابستہ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ سمارٹ فون کےعالمی مارکیٹ کی مالیت 200بلین ڈالر سے زائد ہے۔
XS
SM
MD
LG