رسائی کے لنکس

حملے کا نشانہ بننے والا سان برنارڈینو مرکز دوبارہ کھل جائے گا


حملے کا نشانہ بننے والے مرکز کے باہر تعزیتی پھول اور امریکی پرچم۔ (فائل فوٹو)

حملے کا نشانہ بننے والے مرکز کے باہر تعزیتی پھول اور امریکی پرچم۔ (فائل فوٹو)

سان برنارڈینو کاؤنٹی کے محکمہ صحت نے مرکز کی ایک عمارت میں دو دسمبر کو ایک تقریب کی اجازت دی تھی جہاں سید رضوان فاروق اور تاشفین ملک نے تقریب میں شریک افراد پر فائرنگ کر دی۔

کیلیفورنیا کے شہر سان برنارڈینو میں ان لینڈ ریجنل سنٹر گزشتہ ماہ دسمبر میں ایک مسلمان جوڑے کے حملے کے بعد بند کر دیا گیا تھا، تاہم حکام کے مطابق یہ مرکز پیر کو دوبارہ کھولا جا رہا ہے۔

دہشت گرد حملے جس میں 14 افراد ہلاک ہو گئے تھے کے بعد پیر کو پہلی مرتبہ مرکز کے 600 ملازمین دفتر واپس آئیں گے۔

اس دوران ملازمین اپنے گھروں سے کام کر رہے تھے اور معذور افراد کو خدمات فراہم کر رہے تھے۔ تھراپسٹ آٹزم والے اور ذہنی طور پر معذور بچوں کو ان کے گھروں میں جا کر بھی خدمات فراہم کرتے رہے ہیں۔

دسمبر میں کھلونے جمع کرنے کی سالانہ مہم کے دوران ریجنل سنٹر کے عملے نے ضرورت مند خاندانوں کے بچوں کو مرکز میں کھلونے تقسیم کرنے کی بجائے ان گھروں میں کھلونے پہنچائے۔

سان برنارڈینو کاؤنٹی کے محکمہ صحت نے مرکز کی ایک عمارت میں دو دسمبر کو ایک تقریب کی اجازت دی تھی، جہاں سید رضوان فاروق اور تاشفین ملک نے تقریب میں شریک افراد پر فائرنگ کر دی۔

فائرنگ سے 14 افراد ہلاک جبکہ 22 زخمی ہو گئے تھے۔ دونوں حملہ آور پولیس سے فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

فائرنگ کا نشانہ بننے والے عمارت کے حصے کو پیر کو نہیں کھولا جائے گا۔ عملے کے ارکان پیر کی صبح ایک استقبالیے میں شریک ہوں گے جس کے بعد وہ چھوٹے گروپوں میں تقسیم ہو کر اپنے جذبات کا اظہار کریں گے۔

اس کے بعد مرکز میں کرسمس کے لیے کی گئی آرائش کو اتارا جائے گا اور معمول کا کام شروع کر دیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG